صحافیوں کی برطرفی پر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافیوں کی تنظیموں نے اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں گزشتہ چند ماہ سے اخبار اور ٹی وی چینلز کے ملازمین کی مسلسل برطرفیوں کے خلاف یوم سیاہ منایا اور احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ منگل کے روز اسلام آباد کے صحافیوں کی تنظم ’آر آئی یو جے‘ کے زیر اہتمام اسلام آباد پریس کلب کے سامنے صحافیوں اور اخباری کارکنوں نے ٹی وی چینلز اور اخبارات سے ملازمین کی ایک بڑی تعداد کی برطرفیوں پر ذرائع ابلاغ کے مالکان اور حکومت کے احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سینئر رکن سی آر شمسی نے کہا کہ کل تک جو سیاست دان ہمارے ساتھ سٹرکوں پر احتجاج کرتے تھے آج وہ ہی حکمران بن کر ایوان میں بیٹھے ہیں لیکن اخباری مالکان کے ایک مخصوص ٹولے کے خوف کی وجہ سے صحافیوں کے حقوق کے لیے کچھ نہیں کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی بات کرنے والے اخباری مالکان نے اپنے اداروں کو عقوبت خانے اور بیگار کیمپ بنا رکھا ہے جہاں اربوں روپے سالانہ کمانے کے باوجود کارکنوں کو انتہائی کم اجرتیں اور سینکٹروں کو برطرف کر کے ان کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے ۔ اس کی مثال لاہور کے ایک نجی ٹی وی چینل فائیو کے ایک کارکن کی ہمارے سامنے ہے جس نے چار ماہ سے تنخواہ نہ ملنے پر خودکشی کر لی تھی اور آج بھی بہت سے کارکن جبری برطرفیوں اور مہینوں تنخِواہ نہ ملنے کے سبب پریشانی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ٹی وی اور اخباری مالکان کے خلاف راست اقدام ہونا چاہیے اور صحافیوں کے حقوق کے لیے پارلیمان کے سامنے ایک مستقل احتجاجی کیمپ لگانے کی ضرورت ہے ۔ سی آر شمسی نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے اردو اخبار ’ آج کل‘ سے ملازمین کو بغیر کسی نوٹس کے بر طرف کیا جا رہا ہے ۔جبکہ روزنامہ جناح، روزنامہ خبریں، چینل فائیو، بزنس پلس ٹی وی اور آج ٹی وی نے بھی درجنوں ملازمین کو برطرف کیا ہے پی یو ایف جے کے سیکرٹری جنرل مظہر عباس نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک بھر میں صحافتی تنظیمیں صحافیوں اور اخباری کارکنوں کی برطرفیوں کے خلاف یوم سیاہ منا رہی ہیں جبکہ صحافی اپنے حقوق کے حصول کے لیے پارلیمان کے سیشن میں بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر جائیں گی۔ مظہر عباس کے مطابق پاکستان کے پچاسی فیصد اخبارات اور ٹی وی چینلز میں کارکنوں اور صحافیوں کا استحصال کیا جا رہے جہاں وہ بغیر کسی معاہدے کے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک دو سو سے زائد صحافیوں اور کارکنوں کو اخبارات اور ٹی وی چینلز سے نکالا جا رہا ہے جبکہ خدشہ ہے کہ رواں سال مالکان معاشی بحران کو جواز بنا کر مزید سینکڑوں کارکنوں کو برطرف کر دیں گے۔ مظہر عباس نےکہا کے صحافیوں کی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک برطرف کیےگئے ملازمین کو بحال نہیں کیا جاتا، اخباری کارکنوں کی اجرتوں کا تعین کرنے والے ساتویں ویج بورڈ ایوارڈ کا نفاذ اور ٹی وی چینلز، اخبارات کے ملازمین کی کئی کئی ماہ سے روکی گئی تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہوتی ہے ۔ | اسی بارے میں ٹی وی ملازم کی ’خود کشی‘ پر احتجاج03 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||