BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 December, 2008, 17:13 GMT 22:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارہ صحافی پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ

لاہور میں تنخواہ نہ ملنے پر صحافی کی خودکشی پر احتجاج کا منظر
پاکستان کے ذرائع ابلاغ پر نظر رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق ملک میں سنہ 2008 کے دوران بارہ صحافی پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنے ہیں جبکہ صوبہ پنجاب کو صحافیوں کے لیے سب خطرناک علاقہ قرار دیا گیا ہے۔

اتوار کو ایک غیر سرکاری تنظیم ’انٹر میڈیا‘ کی طرف سے جاری ہونے والی سنہ دو ہزار آٹھ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اس سال پاکستان کے مختلف علاقوں سے گرفتار یا اغواء ہونے صحافیوں کی تعداد چونتیس ہے اور ایسے واقعات سب سے زیادہ قبائلی علاقے فاٹا میں پیش آئے ہیں ۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال تشدد کی وجہ سے بارہ صحافی ہلاک ہوئے ہیں جن میں صوبہ پنجاب اور سرحد میں تین، تین ، صوبہ بلوچستان اور سندھ میں دو دو ، قبائلی علاقے فاٹا اور اسلام آباد میں ایک ایک صحافی ہلاک ہوئے ہیں۔

مختلف جسمانی حملوں کے نتیجے میں بری طرح اور معمولی زخمی ہونے والے صحافیوں کی تعدادچوہتر بتائی گئی ہے اور صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کے ایک سو اٹھارہ کیس سامنے آئے ہیں۔

مقتول صحافی ابراہیم
فاٹا میں ہلاک ہونے والے صحافی ابراہیم

اس برس حکومت کی جانب سے بیس مختلف اداروں کی اشاعت پر پابندی یا زباں بندی کے احکامات بھی جاری کیے گئے جبکہ رپورٹ میں ایک نجی ٹی وی چینل کے ملازم کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس نے چار ماہ سے تنخواہ نہ ملنے پر لاہور میں خودکشی کر لی تھی۔

سالانہ رپوٹ کے مطابق میڈیا کے ساتھ ناروا سلوک کے دو سو زائد واقعات پیش آئے ہیں جبکہ صحافتی فرائض کی ادائیگی کے لیے صوبہ پنجاب کو سب سے زیادہ خطرناک جگہ کو قرار دیا گیا ہے جہاں ایک سال کے دوران صحافتی آزادی کے متصادم چونسٹھ واقعات پیش آئے جبکہ صحافیوں کو جسمانی تشدد کا نشانے بنانے اور دھمکیاں دینے کے سب سے زیادہ واقعات بھی صوبہ پنجاب میں پیش آئے ہیں۔

رپورٹ میں دیے گئے اعداد وشمار کے مطابق ہر ماہ ایک صحافی ہلاک ، تین اغواء یا گرفتار ، چھ جسمانی تشدد سے زخمی اور دس صحافیوں کو ڈرایا دھمکیاں دی گئیں۔ اس کے علاوہ ہر ماہ دو اداروں کو زباں بندی کے سرکاری احکامات اور میڈیا کی آزادی کے خلاف ہر ماہ ہونے والے واقعات کی تعداد سترہ سے زیادہ ہے۔

اسی بارے میں
ڈیرہ اسماعیل، صحافی پر حملہ
24 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد