BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 February, 2009, 02:53 GMT 07:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ذرائع ابلاغ کا کردار اور سوات آپریشن

سوات
فوجی آپریشن میں بھی بہت سے لوگ ہلاک ہوئے ہیں

صوبہ سرحد کی وادی سوات میں پچھلے چودہ ماہ سے جاری لڑائی میں ناقدین کے مطابق ذرائع ابلاغ کا کردار وہ نہیں رہا جس کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی لیکن جب سے طالبان نے لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی کا اعلان کیا ہے تو اس کے بعد سے سوات کے عوام کے مطابق جیسے ملکی اور بین الااقومی میڈیا میں ایک ’بھونچال’ سا آ گیا ہے۔

آجکل شاہد ہی کوئی ایسا اخبار یا ٹی وی چینل ہوگاجس پر سوات کا تذکرہ موجود نہ ہو۔ عام طورپر جب کسی علاقے میں لڑائی طوالت اختیار کرلیتی ہے تو ذرائع ابلاغ کے لیے وہ ایک عام سی کہانی بن جاتی ہے۔ جب لڑائی میں شدت آتی ہے ، عام شہری نشانہ بنتے ہیں تو ساتھ ساتھ اخبارات اور ٹی وی چینلز پر بھی واویلا شروع ہوجاتا ہے اور اس طرح ایک سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

لیکن جب سے سوات میں لڑکیوں کے سکول جانے پابندی کا اعلان کیا گیا ہے اور سکولوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے تو اس کے بعد ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں ایک تحریک سی پیدا ہوگئی ہے اور ہر طرف سوات کی بات ہورہی ہے۔

پاکستان کے انگریزی اور اردو اخبارات میں آجکل سوات کے معاملے کو خصوصی جگہ مل رہی ہے ۔ ہر چھوٹے بڑے اخبار میں جنگ زدہ وادی کے حوالے سے رپورٹیں، تجزیئے، ڈائریاں اور کالم شائع ہورہے ہیں جس میں سوات کا تجزیہ ہر زاویئے اور پہلو سے کیا جارہے ہے۔ بعض انگریزی اخبارت کے ادارتی صفحات پر تو روزانہ کے حساب سے دو سے تین مضامین اور کالم شائع ہو رہے ہیں جس کا بڑا موضوع لڑکیوں کے تعلیم پر پابندی اور سکولوں پر حملے ہیں۔ ان لکھنے والوں میں سوات اور مالاکنڈ سے تعلق رکھنے پاکستانی بھی شامل ہیں جو بیرونی ممالک میں آباد ہیں۔


اگرچہ ان پاکستانی تجزیہ نگاروں کو معاملے کا قریب سے کچھ زیادہ علم بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی ان کی کوشش ہے کہ اس مسئلے کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کیا جائے تاکہ ان کے علاقوں میں لگی آگ کا خاتمہ ہوسکے۔

اس حالیہ رپروٹنگ کی وجہ سے حکومت سخت دباؤ کا شکار نظر آتی ہے اور اس کا اثر کچھ علاقوں میں شدید آپریشن کی صورت میں بھی سامنے آیا ہے۔

سوات کے ایک سینیئر صحافی غلام فاروق کا کہنا ہے کہ سوات کے معاملے میں ملکی اور بین الااقوامی میڈیا کا کردار شروع ہی سے غیر ذمہ دارانہ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوات میں مقامی میڈیا اتنا بااثر اور فعال بھی نہیں ہے جتنے اسلام آباد سے شائع ہونے والے اخبارات ہیں کیونکہ پورے مالاکنڈ ڈویژن سے گنے چنے چند اخبارات شائع ہوتے ہیں لیکن ان کے اتنے وسائل بھی نہیں جبکہ ان اخبارات اور صحافیوں کو مختلف قسم کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ وادی میں ایک سال سے ہزاروں شہری مارے جاچکے ہیں، ان کے جان و مال محفوظ نہیں، ہزاروں لوگ علاقہ چھوڑ چکے ہیں، تعلیمی ادارے تباہ ہوگئے ہیں، پورا ضلع کرفیو کی زد میں ہے لیکن میڈیا اب جاگ رہا ہے ۔‘

ان کے مطابق سوات میں جس حد تک تباہی ہوئی ہے میڈیا میں اس کی بہت ہی کم کوریج ہوئی ہے کیونکہ وہاں صحافیوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہے اور نہ وہ آزاد رپورٹنگ کرسکتے ہیں۔

سوات میں اب تک ہونے والی کارروائیوں میں تین صحافی جان بحق ہوچکے ہیں جبکہ ایک صحافی شیرین زادہ کے گھر پر سکیورٹی فورسز کی طرف سے فائرنگ میں اس کی ہمشیرہ انتقال کرگئی تھیں۔ اس کے علاوہ انگریزی اخبار سے منسلک صحافی حمید اللہ جان کے مکان کو بھی گولہ باری میں تباہ کیا گیا تھا۔

سوات کے مسئلے پر گہری نظر رکھنے والے شعبہ صحافت پشاور یونیورسٹی کے لیکچرار سید عرفان اشرف کا کہنا ہے کہ میڈیا کوریج ہمیشہ سے نئی تبدیلیوں اور رحجانات کی متلاشی رہی ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے سوات آپریشن میں ذرائع ابلاغ کےلیے کوئی نئی بات نہیں رہی تھی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ’ عسکریت پسندوں کی طرف سے سکولوں کی تباہی اور لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کے اعلان کے بعد میڈیا نے اپنے کیمروں کے دھانے طالبان کے خلاف کچھ اس طرح سے کر دیئے ہیں کہ مہذب دنیا اس اقدام کو ترقی اور خوشحالی کے خلاف ایک بڑی سازش سمجھنے لگی اور اس کا خمیازہ طالبان سے زیادہ عام لوگوں کو آپریشن میں تیزی کی صورت میں برداشت کرنا پڑا رہا ہے۔‘

تشدد کی دلدل میں
سوات:حکومتی عملداری کمزور کیوں پڑ رہی ہے
رپورٹر کی ڈائری
’روز وہی خودکش حملے اور سربریدہ لاشیں‘
قانون نیا نہیں ہے
ماہرین متفق نہیں کہ ترامیم بہتری لائیں گی
فوج اپنی ساکھ بچائیں
سوات میں فوج ایک فریق ہے: افضل خان
’آپریشن نرم گرم‘
سوات میں فوج کا آپریشن راہ حق
اسی بارے میں
بہشتِ مرحوم کی یاد میں
27 January, 2009 | پاکستان
سوات: مارٹرگولے سے چار ہلاک
27 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد