سوات میں صحافی کا اغواء اور قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے نجی ٹی وی چینل سے منسلک ایک صحافی کو ڈیوٹی کے دوران گولیاں مار کر قتل کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ بدھ کو تحصیل مٹہ میں پیش آیا۔ ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات میں نجی ٹی وی’جیو‘ سے منسلک رپورٹر موسٰی خان خیل مولانا صوفی محمد کے قافلے کی کوریج کرنے دیگر صحافیوں کے ہمراہ مٹہ گئے تھے اور مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ واپسی پر نامعلوم مسلح افراد انہیں اغواء کر کے لے گئے اور بعد ازاں ان کی گولیوں سے چھلنی لاش مٹہ سے ملی۔ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول کو سر اور سینے میں تین گولیاں لگیں۔ موسٰی خان خیل کا شمار سوات کے سنئیر صحافیوں میں ہوتا تھا اور گزشتہ چند سالوں سے جیو ٹی وی سے منسلک تھے ۔ سوات اور ملک کی صحافی برداری نے موسی خان خیل کی قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کل سوات اور پشاور میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ سوات کے سینئر صحافیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور اس قتل کی تحقیقات کےلیے سپیشل تحقیقاتی ٹیم مقرر کی جائے۔ | اسی بارے میں صحافی قتل، عراق کے بعد پاکستان30 December, 2008 | پاکستان بارہ صحافی پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ 28 December, 2008 | پاکستان ’بیٹا گھر نہ آنا دھماکہ ہوا ہے‘06 January, 2009 | پاکستان صحافیوں کو درپیش چیلنج14 January, 2009 | پاکستان ذرائع ابلاغ کا کردار اور سوات آپریشن02 February, 2009 | پاکستان وانا: پریس کلب دھماکے سے تباہ18 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||