BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 February, 2009, 17:29 GMT 22:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سوات امن عدل کی فراہمی سے آیا‘

افتخار چودھری
سوات میں لوگ عدل کے نام پر سڑکوں پر نکل آئے: افتخار چوہدری
پاکستان کے معزول چیف جسٹس افتخار چودھری نے امن و امان کے قیام کو انصاف کے ساتھ مشروط کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات میں عدل کی بنیاد پر ہی امن کا قیام ممکن ہوسکا ہے۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو پشاور ہائی کورٹ میں وکلاء کنونشن سے خطاب کے دوران کہی۔ افتخار چوھری کا کہنا تھا کہ سوات میں لوگ عدل کے نام پر سڑکوں پر نکل آئے اور جب انہیں انصاف فراہم کرنے کی ضمانت دی گئی تو وہاں امن قائم ہوگیا۔

ان کے بقول جب انصاف ہوگا تب ہی امن آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو صوبہ سرحد، قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں شورش کا سامنا ہے جسے نمٹنے کے لیے عدلیہ کا آزاد ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کا نام لیے بغیر وکلاء پر زور دیا کہ وہ اپنی جدوجہد تیز کرتے ہوئے مطالبہ کریں کہ آئین کے آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی کرنے والے پر مقدمہ چلا کر سزائے موت دی جائے۔

کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نے کہا کہ آج اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے لوگ وکلاء تحریک کی وجہ سے ہی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارہ مارچ کو لانگ مارچ اور سولہ مارچ کو اس وقت تک دھرنا دیا جائے گا جب تک معزول چیف جسٹس افتخار چودھری بحال نہیں ہوتے۔

کنونشن سے وکلاء رہنما اعتزاز احسن، حامد خان، عبداللطیف آفریدی اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر وکلاء نےشدید نعرے بازی کی۔

افتخار چودھری کا پشاور کا یہ تیسرا دورہ تھا مگر ان کے پچھلے اور اس دورے میں واضح فرق یہی نظر آیا کہ اس بار ان کے استقبال میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے چند کارکنوں کے علاوہ باقی سیاسی جماعتوں نے شرکت نہیں کی۔

اس کے علاوہ گزشتہ دوروں کے موقع پر وکلاء کے جوش و جذبے سے بھرپور نعروں کا ہدف سابق صدر پرویز مشرف ہوا کرتے تھے مگر اس بار صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے خلاف نعرے بازی ہوتی رہی۔

وکلاء ’گو زرداری گو‘، ’مشرف کو بھگادیا زرداری کو بھگائیں گے‘، ’چیف کو لائیں گے زرداری کو بھگائیں گے‘ جیسے نعرے لگاتے رہے۔

وکلاء اعتزاز احسن کی پیپلز پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹیو کونسل کی رکنیت سے معطلی پرانتہائی برہم دکھائی دیے اور انہوں پیپلز پارٹی کے اس اقدام کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ تاہم اعتزاز احسن نے توقع کے برعکس تقریر میں اپنی رکنیت کی معطلی کا ذکر ہی نہیں کیا۔

اسی بارے میں
’لانگ مارچ سے خوفزدہ نہیں‘
01 February, 2009 | پاکستان
آج بھی غیر سیاسی ہوں: چودھری
07 February, 2009 | پاکستان
اعتزاز کی پیشکش مسترد
26 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد