BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 February, 2009, 19:44 GMT 00:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لانگ مارچ سے خوفزدہ نہیں‘

وکلا احتجاج
وکلا کے لانگ مارچ میں مسلم لیگ نواز سمیت حزب مخالف کی دیگر جماعتوں نے شرکت کرنے کا اعلان کیا ہے
وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نو مارچ کو وکلا کے لانگ مارچ سے خوفزدہ نہیں اس لیے کہ معزول ججوں کی رہائی، وکلا تحریک کی نہیں بلکہ ان کے احکامات کی مرہونِ منت ہے۔

یہ بات وزیراعظم نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے واپسی کے بعد اتوار کی شب اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرس کے دروان کہی۔

وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وکلا کے لانگ مارچ اور اس میں حصہ لینے والوں سے ان کی حکومت خوفزدہ نہیں ہے کیونکہ ’ہم نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف بھر پور تحریکیں چلائیں تاہم پھر بھی وہ نو سال تک اقتدار میں رہے اس لیے لانگ مارچ سے ہماری حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں سب کو احتجاج کرنے کا حق ہے اس لیے وہ وکلا کا احترام کرتے ہیں لیکن سب کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ معزول ججوں کی رہائی، کسی وکلا تحریک کی نہیں بلکہ ان کے احکامات کی مرہونِ منت ہے۔

واضع رہے کہ وکلا نے عدلیہ کی آزادی اور معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے لیے نو مارچ کو لانگ مارچ اور پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ وکلا کے لانگ مارچ میں مسلم لیگ نواز سمیت حزب مخالف کی دیگر جماعتوں نے شرکت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کرنے والے تقریباً تمام ممالک کے رہنماؤں نے ان کے اس موقف کی تائید کی ہے کہ خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کے ساتھ مذاکرات اور اقتصادی استحکام بھی لازمی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے جبکہ دونوں ممالک کو انتہا پسندی، دہشت گردی اور غربت سمیت دیگر بنیادی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہیں۔

ممبئی کے واقعات کی تحقیقات مکمل
 بھارت کی جانب سے ممبئی کے واقعات کے حوالے سے فراہم کیے گئے شواہد کی روشنی میں ہم نے تحقیقات مکمل کر لی ہیں اور اس وقت تحقیقاتی رپورٹ کا وزارت قانون میں جائزہ لیا جا رہا ہے
وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ممبئی کے واقعات کے حوالے سے فراہم کیے گئے شواہد کی روشنی میں ہم نے تحقیقات مکمل کر لی ہیں اور اس وقت تحقیقاتی رپورٹ کا وزارت قانون میں جائزہ لیا جا رہا ہے جس کے بعد وہ تحقیقات کے نتائج سے ساری دنیا کو اعتماد میں لیں گے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی میزائل حملوں کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ میزائل حملوں سے افادیت کم اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان زیادہ پہنچ رہا ہے اور اس بات پر وہ نئی امریکی انتظامیہ کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ میزائل حملوں سے خطے میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کے دل اور دماغ جیتے جائیں۔ اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں موجود شدت پسند عناصر کے بارے میں امریکہ کے پاس کوئی خفیہ معلومات ہیں تو وہ اس سے ہمیں آگاہ کریں اور ہم خود وہاں آپریشن کریں جس سے عوامی حمایت میں اضافہ ہو گا۔

صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں جاری فوجی آپریشن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سوات میں امن قائم کرنے کے لیے جو اقدامات کیے جا رہے ہیں اس میں کوشش کی جائے گئی کہ عام لوگوں کا جانی نقصان کم سے کم ہو۔

انہوں نے کہا سوات میں مکمل امن و امان کے لیے فوجی آپریشن کے ساتھ دوسری حکمت عملی کی طرف بھی دیکھنا ہوگا جس میں سیاسی حل اور مذاکرات شامل ہیں۔

وکلاء کی گروپ بندی
اعتزاز احسن اور حامد خان کے اختلافات
ایک سال بعد
ایمرجنسی - تین نومبر کو وکلاء کا یومِ سیاہ
وکلاء وکلاء کا دھرنا
وکلاء کا دھرنا، پولیس کا لاٹھی چارج
وکلاءملک گیر دھرنا
ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کا دھرنا
اعتزاز احسن اور جسٹس افتخارعدلیہ کی آزادی
لانگ مارچ کا تیسرا اور آخری مرحلہ
وکلاء کا احتجاج وکلاء کا احتجاج
ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کا احتجاج جاری
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد