BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 February, 2009, 23:03 GMT 04:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آج بھی غیر سیاسی ہوں: چودھری

چیف جسٹس افتخار چودھری
افتخار محمد چودھری نے کہا کہ دو سال سے جاری وکلاء کی تحریک سے سترہ کروڑ عوام میں شعور پیدا ہوا ہے
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے راولینڈی میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آج بھی غیر سیاسی ہیں کیونکہ نہ تو انھوں نے کبھی میڈیا کو کوئی انٹرویو دیا ہے اور نہ ہی وکلاء کو کوئی سیاسی سبق پڑھایا ہے۔

سنیچر کے روز راولپنڈی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں راولپنڈی ڈویژن کی اٹھارہ مختلف بار ایوسی ایشنوں کے نو منتخب عہدیدران سے حلف لینے کے بعد وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ جب وہ تیرہ مارچ دو ہزار سات کوتنہاگھر سے نکلے تو اس وقت شاہرہ دستور پر وکلاء کے علاوہ وہ شخصیات بھی موجود تھیں جنھوں نے یہ کہا کر میرے ہاتھ چومے کہ آپ قانون کی بالادستی کے لیے باہر نکلے ہیں۔

انھوں نے کسی سیاسی جماعت کا نام لیے بغیر کہا کہ جب میں سکھر میں وکلاء سے خطاب کے لیے گیا تو وہاں عوامی نمائندے میرے استقبال کے لیے موجود تھے۔ اس کے علاوہ جب میں بارہ مئی دو ہزار سات کو کراچی گیا تو آئیرپورٹ پر یہ ہی لوگ میرے ساتھ محصور تھے۔

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے مطابق ’بیس جولائی تک دو ہزار سات تک جہاں کہیں بھی گئے یہ لوگ میرے استقبال کے لیے موجود ہوتے تھے لیکن اس وقت انِ شخصیات کو میرے میں کوئی نقص نظر نہیں آ رہا تھا کہ میں سیاسی ہو گیا ہو بلکہ یہ شخصیات یہ کہتی تھیں کہ ملک میں قانون کی بالادستی میری وجہ سے ممکن ہوئی ہے ۔‘

واضع رہے کہ گزشتہ سال پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف زرداری نے امریکی میگزین نیوز ویک کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ معزول چیف جسٹس کو بحال کرنے کے حق میں ہیں لیکن ان کی پارٹی کے مطابق وہ کئی مہینوں سے سیاسی رنگ اختیار کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے پنجاب میں سینئیر وزیر راجہ ریاض نے چند روز پہلے کہا تھا کہ معزول چیف جسٹس کو چاہیے کہ وہ کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر لیں۔

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ صرف وکلاء سے خطاب کرتے ہیں اور کسی جگہ انٹرویو دینے نہیں جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ آج بھی انھوں نے وکلاء سے آئین اور قانون کی بالا دستی کے لیے حلف لیا ہے نہ کہ انھیں کوئی سیاسی سبق دیا یا اپنی وفاداری کی قسم لی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ججوں کے پاس قلم اور آئین کے علاوہ کوئی طاقت نہیں ہوتی ہے جبکہ عدلیہ اس وقت ہی مضبوط اور کسی غیر آئینی اقدام کے خلاف سٹینڈ لیتی ہے جب اس کے پیچھے وکلاء، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں اور میڈیا کی طاقت ہوتی ہے۔

معزول چیف جسٹس کے مطابق یہ ہی وجہ ہے کہ جب بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے میں جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عدلیہ پر شب خون مارا تو کئیں جج صاحبان گھروں کو چلے گئے اور لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ میں نے جنرل مشرف کے حق میں فیصلہ دیا لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت نہ تو میڈیا آزاد تھا اور نہ ہی لوگوں میں اتنا شعور تھا کہ انھیں انصاف اور اپنے حقوق اس وقت ملیں گے جب عدلیہ آزاد ہو گی۔

افتخار محمد چودھری نے کہا کہ دو سال سے جاری وکلاء کی تحریک سے سترہ کروڑ عوام میں شعور پیدا ہوا ہے کہ ملک میں انصاف اور عوام کو بنیادی حقوق اس وقت میسر ہونے جب عدلیہ آزاد ہو گی۔

انھوں نے کہا ماضی میں نہ کبھی کسی سے سمجھوتہ کیا اور نہ ہی مستقبل میں کسی سے کریں گے بلکہ وکلاء تحریک کوآخری دم اور ہر ممکن کوشش تک چلائیں گے۔ اس لیے میری میڈیا ، پڑھے لکھے اور ان پڑھ لوگوں سمیت تمام لوگوں سے اپیل ہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔

واضع رہے کہ سنیچر کو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا قافلہ راولپنڈی شہر میں داخل ہوا تو ماضی کی برعکس اس بار سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی تعداد انتہائی کم تھی جبکہ مسلم لیگ نواز جو وکلاء تحریک کی سب سے بڑی حمایتی ہے اس کے محض درجن بھر کارکن ہی معزول چیف جسٹس کے قافلے میں شامل تھے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نے وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ماہ سولہ مارچ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے لیے ملک بھر کے وکلاء آخری سانس تک دھرنا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ معزول چیف جسٹس سمیت تمام معزول ججوں کو بحال کرنے کے لیے حکومت اور پارلیمنٹ کے پاس صرف تیس دن باقی ہیں۔

علی احمد کرد نے کہا کہ گر تیس دنوں کے اندر اندر معزول چیف جسٹس کو بحال نہیں کیا گیا تو سولہ مارچ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شاہراہ دستور پر آخری دم تک اور جینے مرنے کی قسم تک دھرنا دیا جائے گا۔

اسی بارے میں
’چیف جسٹس میں ہی ہوں‘
24 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد