وکلا لانگ مارچ کی تاریخیں تبدیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں وکلا کی نمائندہ سٹیئرنگ کمیٹی نے اپنے لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کردی ہے اب یہ مارچ نو کی بجائے بارہ مارچ کو بیک وقت کوئٹہ اور کراچی سے شروع ہوگا اور سولہ مارچ کو اسلام آباد میں دھرنا دیا جائے گا۔ اس بات کااعلان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نے اعتزاز احسن اور دیگر وکلا رہنماؤں کے ہمراہ لاہور ہائی کورٹ بار میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ پریس کانفرنس سے پہلے وکلا کی نمائندہ سٹیئرنگ کمیٹی کے ایک اہم اجلاس ہوا۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نے کہا کہ لانگ مارچ کی تاریخ کی تبدیلی کا فیصلہ مسلمانوں کے لیے مقدس دن بارہ ربیع الاول کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب نو کی بجائے بارہ مارچ کو کوئٹہ اور کراچی سے بیک وقت لانگ مارچ شروع ہوگا اور سکھر میں دونوں جلوس رات کا قیام کریں گے اگلے روز یعنی تیرہ مارچ کو ملتان پہنچیں گے اور چودہ مارچ کو ملتان سے روانگی کے بعد اسی شام لاہور پہنچیں گے اور پندرہ مارچ کوجلوس راولپنڈی پہنچ جائے گا۔ علی احمد کرد نے کہا ساتھ ہی پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا شروع ہوجائے تاہم ان کے بقول دھرنا کی اصل تاریخ سولہ مارچ ہے۔ وکلا نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کے بعد پارلیمنٹ کے باہر دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان کے عہدے پر بحال نہیں کردیا جاتا۔
وکلا رہنماؤں نے وکیلوں کی ضلعی تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ابھی سے تیاری شروع کردیں۔ مزدوروں کسانوں، سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سے ملاقاتیں کریں اور انہیں لانگ مارچ اور دھرنے میں شمولیت کے تیار کریں، مسلم لیگ نون تحریک انصاف اور جماعت اسلامی سمیت مختلف سیاسی جماعتیں وکلا کے لانگ مارچ میں شمولیت کا اعلان کرچکی ہیں۔ مسلم لیگ نون نے ابھی دھرنا میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کردنے کہا کہ وہ خود میاں نواز شریف سے ملاقات کریں گے اور انہیں دھرنے پر آمادہ کریں گے۔ علی احمد کرد نے کہا کہ وکلا سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملیں گے اور انہیں اعتماد میں لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا اجلاس میں کہا گیا کہ دھرنے کی خوبصورتی یہ ہوگی کہ تمام سیاسی جماعتوں سے کہا جائے گا کہ وہ اپنی اپنی سیاسی جماعت کے الگ الگ کیمپ لگائیں۔ وکلا نمائندوں نے بتایا کہ لانگ مارچ اور دھرنے کے لیے ایک ضابطہ اخلاق تیار کیاجا رہا ہے اور لانگ مارچ میں شامل ہرشخص اس کا پابند ہوگا۔ ادھر پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جمعہ کی سہ پہر لاہورائر پورٹ پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ وکلا کا حق ہے اور اگر امن امان کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا تو حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ | اسی بارے میں ’لانگ مارچ سے خوفزدہ نہیں‘01 February, 2009 | پاکستان دوبارہ لانگ مارچ اور دھرنے کا اعلان02 July, 2008 | پاکستان ’لانگ مارچ، خود کش حملہ آورگرفتار‘17 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ کے مقاصدپورے:اعتزاز16 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ میڈیا کی نظرسے14 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ کے بعد اٹھنے والے سوالات14 June, 2008 | پاکستان ’لانگ مارچ‘: نمبروں کا کھیل13 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ میں لال بینڈ12 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||