’دوبارہ تعیناتی کا قانون نہیں ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے سابق جج اور وکلاء تحریک کے رہنما جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ ججوں کی دوبارہ تعیناتی اور اُن کو پرانی تاریخوں سے سنیارٹی دینے کا کوئی قانون آئین میں موجود نہیں ہے۔ سنیچر کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ججوں کی معزولی کا بھی کوئی قانون آئین میں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صرف اُن ججوں کو بحال نہیں کر رہی جنہوں نے سابق ملڑی ڈکٹیٹر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی تھی۔ جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے کہا کہ گزشتہ سال وکلاء کا لانگ مارچ ایک کامیاب شو تھا لیکن اس کے مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں موجودہ جمہوری نظام وکلاء تحریک کی ہی بدولت ہے اور وکلاء برادری جمہوری نظام کے خلاف نہیں ہے۔ اُنہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ لانگ مارچ سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدور فیلڈ مارشل ایوب خان، جنرل یحیٰی اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف عوامی دباؤ کی وجہ سے ہی اپنے عہدوں سے مستعفی ہوئے۔ اُنہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک کی وجہ سے ہی سیاسی قیادت وطن واپس آئی اور اسی تحریک کی ہی بدولت سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو اپنی وردی اُتارنی پڑی۔ جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے کہا کہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ وکلاء کے جائز مسائل حل کرے اور افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر معزول ججوں کو بحال کرے جس کا وعدہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے پاکستان مسلم لیگ نون کے ساتھ کیا تھا۔ اُنہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ اس سال لانگ مارچ فیصلہ کن ہوگا اور وکلاء کی یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ | اسی بارے میں عبدالحمید ڈوگر کے استعفے کا مطالبہ30 October, 2008 | پاکستان وکلاء جدوجہد جاری رہے گی: کرد03 November, 2008 | پاکستان لاہور، ماتحت عدلیہ کی تالہ بندی04 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||