مینگورہ:صوفی محمد کا ’امن مارچ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے سرحد حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد اپنے سینکڑوں حامیوں کے ہمراہ مینگورہ میں ’امن مارچ‘ کیا ہے۔ مولانا صوفی محمد حکومت کی طرف سے شرعی نظام عدل کے قیام کے اعلان کے بعد سکیورٹی فورسز کے خلاف برسر پیکار طالبان سے امن بات چیت کے لیے علاقے میں پہنچے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ تحصیل مٹہ کے کسی نامعلوم مقام پر مقامی طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ سے ملاقات کریں گے۔ مولانا فضل اللہ صوفی محمد کے داماد ہیں۔ مینگورہ میں مولانا صوفی محمد کے سینکڑوں حامیوں نے سفید اور کالے جھنڈے اٹھا کر خاموش مارچ کیا۔ مولانا صوفی محمد نے اس جلوس کی قیادت کی۔امن مارچ میں شریک افراد نے نہ نعرے بازی کی اور نہ ہی اسلحے کی نمائش کی۔ مولانا صوفی محمد کے ساتھیوں نے ان کے گرد گھیرا ڈالے رکھا اور ذرائع ابلاغ کے کسی نمائندے کو ان کے نزدیک جانے نہیں دیا۔ مولانا صوفی محمد تصویر بنوانے سے گریز کرتے ہیں۔ مولانا صوفی محمد کا قافلہ ضلع دیر سے شروع ہوا اور تمیرہ گرہ سے ہوتا ہوا مینگورہ پہنچا ہے۔ قافلے کی مینگورہ آمد کے بعد شہر میں چہل پہل نظر آئی ہےاور تمام بازار کھلے رہے۔ لوگوں کو امید ہے کہ اس معاہدے سے مینگورہ کی رونقیں بحال ہو سکیں گی۔ مولانا صوفی محمد کو جو افغانستان پر امریکی حملے کے وقت اپنے ہزاروں ساتھیوں کے ہمراہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کی مدد کرنےگئے تھے، افغانستان سے واپسی پر پاکستان سرحد پر حراست میں لے لیا گیا تھا اور انہیں کئی سال تک انہیں حراست میں رکھا گیا۔ ادھر سرحد حکومت کے سینیئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور نے مینگورہ کے سرکٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل کے نفاذ سے علاقے میں امن قائم ہو سکے گا۔ | اسی بارے میں ’لڑائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں‘ 13 February, 2009 | پاکستان سوات:مارٹرگولہ گرنے سےہلاکتیں14 February, 2009 | پاکستان سوات:’بارہ سو ہلاک،لاکھوں بےگھر‘13 February, 2009 | پاکستان سوات، باجوڑ کے مہاجرین حکومت سے مایوس14 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||