BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 February, 2009, 23:05 GMT 04:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: لوگوں کی خوشی کی انتہا نہیں

سواتی لڑکا
لوگ اس لمحے کو بڑے درد ناک الفاظ میں یاد کرتے جب روز شہر سے لاشیں ملتی تھیں اور وہ انتہائی مایوسی کا شکار ہوچکے تھے
صوبہ سرحد کی وادی سوات میں ’شرعی نظام عدل‘ کے نفاذ پر شاید عوام اتنے خوش نہ ہوں جتنا امن کا عمل شروع ہونے پر وہاں خوشی پائی جاتی ہے ۔بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سوات کے عوام کو نئی زندگی ملی ہو۔

مینگورہ میں ایک رکشہ ڈرائیور سلیم نے بتایا کہ ’شرعی نظام بھی سوات کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا لیکن اس سے زیادہ خوشی اس بات پر ہے کہ وادی میں امن قائم ہورہا ہے ، ہم گولوں کی آوازیں سن سن کر پاگل ہوگئے تھے۔‘


انہوں نے کہا کہ جب امن ہوگا تو روزگار بھی ملےگا اور وہ اپنے بچوں کےلیے دو وقت کی روٹی بھی کما سکیں گے۔ اگرچہ علاقے میں مکمل امن قائم ہونے تک ابھی کئی مراحل کو طے ہونا باقی ہے تاہم جب سے لڑائی بند ہوئی ہے سوات کے عوام میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔

ایک دوکاندار شاہد نے بتایا کہ تین چار دنوں سے مینگورہ شہر میں بازاروں میں چہل پہل ہے اور لوگوں کو دیکھ کر یقین نہیں آرہا کہ یہ وہی شہر ہے جو خوف کی وجہ سے دن کے وقت بھی بند رہتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’حکومت کی طرف سے شرعی نظام عدم کے اعلان پر عوام خوش ضرور ہیں لیکن اس زیادہ اس بات پر خوشی ہے کہ کرفیو ختم ہوگیا، فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا اور فریقین امن کے قیام پر متفق نظر آتے ہیں۔ اگر شرعی نظام عدل ہو بھی اور امن نہ ہو تو ایسے نظام کا فائدہ کیا۔‘

بغیر امن شرعی نظام کا فائدہ؟
 ’حکومت کی طرف سے شرعی نظام عدم کے اعلان پر عوام خوش ضرور ہیں لیکن اس زیادہ اس بات پر خوشی ہے کہ کرفیو ختم ہوگیا، فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا اور فریقین امن کے قیام پر متفق نظر آتے ہیں۔ اگر شرعی نظام عدل ہو بھی اور امن نہ ہو تو ایسے نظام کا فائدہ کیا
دوکاندار
سوات میں گزشتہ تیرہ ماہ سے جاری جھڑپوں اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے علاقہ میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا تھا۔ بالائی سوات کے علاقوں مٹہ، خوازہ خیلہ، کبل اور چار باغ میں سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے مابین آمنے سامنے جنگ کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے اور سوات چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لے لی۔

گزشتہ سال مئی کے ماہ میں جب سرحد حکومت اور طالبان کے مابین امن معاہدہ ختم ہوا تو فوج نے نئے سرے سے کارروائیوں کا آغاز کیا جس میں پہلی مرتبہ پاکستان کے کسی بندوبستی علاقے میں لڑاکا طیاروں کا استعمال کیا گیا۔ اس سے قبل وادی میں اتنی شدید اور بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دیکھنے میں نہیں آئی تھیں اور ان کارروائیوں کا زیادہ تر عام شہری نشانہ بنے اور ان کے مکانات تباہ ہوئے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹر نشینل نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ سوات میں فوج اور طالبان کے درمیان ہونے والی کارروائیوں میں بارہ سو شہری ہلاک اور دو سے پانچ لاکھ تک بےگھر ہوچکے ہیں۔

سوات میں لڑائی نے ایک نئی شکل اس وقت اختیار کرلی جب وادی میں تعلیمی اداروں پر حملوں کا اغاز ہوا اور کرفیو کے دوران سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں سکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔

طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی لگائی گئی۔ صدر مقام مینگورہ میں دن دہاڑے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بڑھے اور سڑکوں چوراہوں سے لاشیں ملنا شروع ہوا۔ لوگ صبح اٹھتے تو انہیں شہر کے وسط میں واقع گرین چوک سے تین چار لاشیں ملتی۔ یہ لاشیں یا تو لٹکی ہوئی حالت میں ہوتی یا ان کے گلے کٹے ہوئے ہوتے۔ ایسے واقعات میں انتی تیزی سے اضافہ ہوا کہ چند دنوں کے اندر ہی گرین چوک ’خونی چوک‘ کے نام سے مشہور ہونے لگا۔

خوف کےسائے
 طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی لگائی گئی۔ صدر مقام مینگورہ میں دن دہاڑے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بڑھے اور سڑکوں چوراہوں سے لاشیں ملنا شروع ہوا۔ لوگ صبح اٹھتے تو انہیں شہر کے وسط میں واقع گرین چوک سے تین چار لاشیں ملتی۔ یہ لاشیں یا تو لٹکی ہوئی حالت میں ہوتی یا ان کے گلے کٹے ہوئے ہوتے۔ ایسے واقعات میں انتی تیزی سے اضافہ ہوا کہ چند دنوں کے اندر ہی گرین چوک ’ خونی چوک‘ کے نام سے مشہور ہونے لگا
شہر میں دن بدن خوف کے سائے بڑھتے گئے جبکہ آپریشن میں بھی تیزی آتی رہی۔ دوسری طرف میڈیا میں شہری آبادی پر ہونے والے حملوں پر واویلا شروع ہوا اور حکومت پر ہر طرف سے دباؤ بڑھنے لگا۔

مبصرین کے مطابق سوات میں یہ ایک ایسا لمحہ تھا جسے تشدد کی انتہا کہا جاسکتا تھا کیونکہ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں گر رہی تھیں۔ خوف اور بے یقینی کی صورتحال کے باعث بالائی سوات اور مینگورہ شہر سے لوگوں کی نقل مکانی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا اور لوگ راتوں رات سوات سے بھاگنے لگے۔

پانچ دن پہلے جب میں مینگورہ میں موجود تھا تو لوگ اس لمحے کو بڑے درد ناک الفاظ میں یاد کررہے تھے جب روز شہر کے علاقوں سے لاشیں ملتی تھیں اور تشدد کے واقعات میں اضافے سے شہر میں رہنے والے افراد انتہائی مایوسی کا شکار ہوچکے تھے۔

تاہم جب سے مقامی طالبان کی طرف سے سوات میں دس روز کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا اور توپوں کی گن گرج بند ہوئی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے سوات کے عوام کو ایک نئی زندگی ملی ہوں۔

حکومت کی طرف سے وادی میں شرعی نظام عدل کے نفاذ کا بھی اعلان کیا گیا ہے لیکن سوات کے لوگ امن کے قیام پر زیادہ خوش نظرآتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوات کے عوام مزید جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے کیونکہ پہلے ہی اتنا خون بہہ گیا ہے کہ لوگوں میں مزید خون خرابہ برداشت کرنے کا سکت باقی نہیں رہا۔

 صوفی محمددوسری اننگز
مولانا صوفی محمد ایک بار پھر سینٹر سٹیج پر
موسیٰ خیل’بریکنگ نیوز‘
صحافیوں کی موت کی ایک وجہ یہ بھی ہے
ایک اور ’پسپائی‘
سوات امن معاہدہ اور اس سے وابستہ توقعات
مینگورہ ’امن مارچ‘
صوفی محمد کا ساتھیوں سمیت’امن مارچ‘
مفروضوں کا معاہدہ
مولانا فضل اللہ بیت اللہ سے علیحدہ نہیں ہوں گے
اسی بارے میں
’قتل، معاہدے کی خلاف ورزی‘
18 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد