سوات:لڑکیوں کی تعلیم،جزوی آزادی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ نے ایف چینل پر خطاب کرتے ہوئے لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے پر لگائی جانے والی اپنی پابندی جزوی طور پر واپس لے لی ہے۔ صوبائی حکومت اور کالعدم ’تحریکِ نفاذ شریعت محمدی‘ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد مولانا فضل اللہ نے پہلی مرتبہ اپنے غیر قانونی ایف ایم چینل پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں شریعت کے نفاذ کے لیے ان کے ساتھیوں کی قربانیاں رنگ لے آ ئی ہیں۔ انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم سے پابندی جزوی طور پر ہٹاتے ہوئے اعلان کیا کہ لڑکیوں کو صرف امتحانات دینے کی اجازت ہوگی جو سترہ مارچ سے شروع ہو رہے ہیں۔ البتہ انہوں نے کہا کہ امتحانات کے دوران لڑکیوں کے پردے کا انتظام کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تعلیم کے حصول کے مخالف نہیں بلکہ بقول ان کے ’تعلیم کی آڑ میں مبینہ طور پر ہونے والی فحاشی‘ کے خلاف ہیں۔ ان کے بقول سکول اور کالج کی طالبات کی تعلیم کے حصول سےمستقل طور پر پابندی اٹھانے کے متعلق ان کی تنظیم کے علما بہت جلد طریقہ کار وضع کریں گے۔ مولانا فضل اللہ کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے جو دس دن کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے اسے مستقل کرنے کا حتمی فیصلہ ان کی شوریٰ کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہاہے کہ ان کا مقصد حکومت کرنا نہیں بلکہ شریعت کا نفاذ ہے اور جب تک شریعت نافذ نہیں ہوتی تب تک وزیر اعظم، صدر اور وزرا بھی خود کو محفوظ تصور نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے خلاف ’جہاد‘ جاری رہے گا اور اس کے لیے ان کے ساتھیوں کے لیے دیگر محاذ بھی کھلے ہوئے ہیں۔ان کا بظاہر اشارہ قبائلی علاقے باجوڑ اور افغانستان کی طرف تھا۔ مولانا فضل اللہ نے غیر سرکاری تنظیموں کے بارے میں کہا کہ انہیں وہ علاقے میں اس وقت تک کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جب تک انہیں یقین نہ ہو جائے کہ حکومت نفاذ شریعت ریگولیشن کو عملی کرنے میں مخلص ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ملاقات کے دوران کالعدم تحریکِ نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد پر واضح کردیا ہے کہ نظام عدل ریگولیشن کے تحت تعینات ہونے والے علاقہ قاضی کو بااختیار ہونا چاہیے اگر ایسا نہیں ہوگا تو وہ پھر سے اپنی مسلح جدوجہد شروع کردیں گے۔البتہ انہوں نے کہا کہ انہیں مولانا صوفی محمد پر مکمل اعتماد ہے۔ واضح رہے کہ مولانا فضل اللہ کے خطاب سے کچھ دیر قبل ملاکنڈ ڈویژن کے کمشنر سید جاوید نے حکومت کی جانب سے مستقل جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیر سےلڑکوں کے سکول کھول دیے جائیں گے۔ البتہ انہوں نے کہا تھا کہ لڑکیوں کے سکول سرِ دست نہیں کھولے جا سکتے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ طالبان نے کوشش کی ہے کہ حکومت کی بجائے لڑکیوں کی تعلیم سے جزوی طور پر پابندی ہٹانے کا اعلان کرکےخود ہی اس کا کریڈٹ لے لیں۔ |
اسی بارے میں سوات معاہدے پر امریکہ کو پریشانی20 February, 2009 | پاکستان ’امن معاہدے پر کوئی معترض نہیں‘19 February, 2009 | پاکستان صحافی کے قتل کی تحقیقات کا اعلان19 February, 2009 | پاکستان ’قتل، معاہدے کی خلاف ورزی‘ 18 February, 2009 | پاکستان ’سوات امن عدل کی فراہمی سے آیا‘18 February, 2009 | پاکستان سوات میں صحافی کا اغواء اور قتل18 February, 2009 | پاکستان مینگورہ:صوفی محمد کا ’امن مارچ‘18 February, 2009 | پاکستان صوفی محمد: سوات جانے کا اعلان16 February, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||