BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 February, 2009, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافی کے قتل کی تحقیقات کا اعلان

مقتول صحافی
عراق کے بعد پاکستان صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک جگہ ہے
سرحد حکومت اور مقامی طالبان نے سوات میں صحافی کے قتل پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے علیحدہ علیحدہ تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے سوات میں قتل ہونے والے صحافی موسیٰ خان خیل کے ورثاء کے لئے پانچ لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔

ایوان صدر سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق صدر نے مقتول صحافی کے ورثاء سے دلی رنج و غم کا اظہار کیا اور صوبہ سرحد کی حکومت کو ہدات کی ہے کہ وہ قاتلوں کو گرفتار کرے اور انہیں قرار واقعی سزا دلائے۔


موسیٰ خان خیل کو سوات میں مولانا صوفی محمد کے امن مارچ کے دوران بدھ کو نامعلوم افراد نے پکڑ کر قتل کر دیا تھا۔

جیو ٹی وی کے مطابق موسیٰ خان خیل سوات میں ان کے نامہ نگار کے طور پر کام کرتے تھے۔ جیو ٹی وی کے اہلکار حامد میر نے سوات میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موسیٰ خان کو دھمکیاں مل رہی تھی۔

مقامی طالبان کے ترجمان مسلم خان نے سوات کے صحافی شیریں زادہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مقامی طالبان موسیٰ خان کی موت کے ذمہ دار نہیں ہیں اور کوئی تیسری قوت جو سوات میں امن قائم کرنے کے لیے ہونے والی کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے، وہ اس قتل میں ملوث ہے۔

حاجی مسلم خان نے کہا کہ طالبان صحافی کے قتل کی تحقیقات کریں گے اور ذمہ داروں کو سزا دیں گے۔

صحافیوں کا احتجاج

پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم ’پی ایف یو جے‘ کی اپیل پر ہونے والے مظاہروں میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ موسیٰ خان خیل کے قاتلوں کو گرفتار کرے اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرے۔

مظاہروں کا سلسلہ مقتول صحافی کے آبائی علاقے سوات سے شروع ہوا جہاں مینگورہ پریس کلب میں صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور موسیٰ خان کے قتل پر شدید احتجاج کیا۔ صحافیوں کے اس مظاہرے میں جیو ٹی وی کے اہلکار حامد میر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موسیٰ خان کو دھمکیاں مل رہی تھی۔

اسلام آباد سے نمائندہ بی بی سی اعجاز مہر کے مطابق پریس کلب کے باہر درجنوں صحافیوں نے بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور صحافیوں کے خلاف تشدد میں اضافے کے خلاف نعرے لگائے۔ صحافیوں نے چائنا چوک کے قریب واقع پریس کلب کے سامنے احتجاجی جلوس بھی نکالا۔

اسی بارے میں
صحافیوں کو درپیش چیلنج
14 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد