BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 February, 2009, 13:37 GMT 18:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: حکومت کا اعلانِ جنگ بندی

جنگ بندی کے اعلان سے لگتا ہے کہ فوج کوئی کارروائی نہیں کرے گی
صوبہ سرحد کی حکومت نے ضلع سوات میں مستقل جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ لڑکوں کے سکولوں کو پیر سے کھول دیا جائے گا تاہم لڑکیوں کے سکول بدستور بند رہیں گے۔

یہ اعلان سنیچر کو مالاکنڈ ڈویژن کے کمشنر سید جاوید نے مینگورہ میں ایک پریس کا نفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سوات میں مستقل جنگ بندی کا اعلان کرتی ہے اور پیر کے روز سے لڑکوں کے تمام سکولوں کو کھول دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تمام بےگھر ہونے والے افراد سے درخواست کرتی ہے کہ وہ واپس اپنے گھروں میں آجائیں اور ان کی بحالی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔

پریس کانفرنس کے دوران سید جاوید نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کیا لڑکیوں کے سکول بھی کھولے دیے جائیں گے جن پر طالبان نے پچھلے مہینے پابندی لگا رکھی تھی۔

 مبصرین کا خیال ہے کہ طالبان کا غیرمسلح ہونا اور لڑکیوں کی تعلیم سے پابندی ہٹایا جانا وہ دو اہم معاملات ہیں جن پر ابھی تک کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوسکی ہےاور جو اعلانات کیے گئے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں بظاہرطالبان کے مطالبات کا زیادہ خیال رکھا گیا ہے۔
اس بات کی وضاحت کے لیے جب بی بی سی نے ان سے فون پر رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ چونکہ لڑکیوں کے سکولوں کو نقصان پہنچا ہے، لہذا انہیں دوبارہ تعمیر کے بعد کھول دیا جائے گا۔

ان سے پو چھا گیا کہ سوات میں اب بھی درجنوں نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارتیں صحیح سلامت ہیں تو انہیں کیوں نہیں کھولا جارہا تو انہوں بظاہر لاجواب ہوکر اتنا کہا کہ حکومت کا موقف یہی ہے کہ’تمام سکول کھول دیے جائیں گے۔‘

طالبان ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان نے ابھی تک حکومت کو لڑکیوں کے سکول دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ مبصرین کے بقول حکومت بجائے لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں کے کھولنے کا اعلان کرے لہذا درمیا نی راستہ اختیار کرتے ہوئے صرف اتنا کہتی ہے کہ ’تمام سکول کھول دیئے جائیں گے۔‘

پریس کانفرنس کے دوران کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے یہ اعلان بھی کیا کہ سوات میں موجود تمام ’غیرضروری فوجی چوکیوں‘ کو ختم کردیا جائے گا تاہم انہوں نے ایہ نہیں بتایا کہ کتنی اور کون سی چوکیاں ختم کی جائیں گی۔

حکومت کی طرف سے یہ اعلان گزشتہ روز کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی اور طالبان رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا ہے اور ذرائع کے مطابق یہ وہ نکات ہیں جن پر فریقین ابتدائی طور پر متفق ہوچکے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ طالبان کا غیرمسلح ہونا اور لڑکیوں کی تعلیم سے پابندی ہٹایا جانا وہ دو اہم معاملات ہیں جن پر ابھی تک کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوسکی ہےاور جو اعلانات کیے گئے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں بظاہرطالبان کے مطالبات کا زیادہ خیال رکھا گیا ہے۔

مینگورہ ’امن مارچ‘
صوفی محمد کا ساتھیوں سمیت’امن مارچ‘
ایک اور ’پسپائی‘
سوات امن معاہدہ اور اس سے وابستہ توقعات
مفروضوں کا معاہدہ
مولانا فضل اللہ بیت اللہ سے علیحدہ نہیں ہوں گے
 صوفی محمددوسری اننگز
مولانا صوفی محمد ایک بار پھر سینٹر سٹیج پر
فوجی اہلکارنیا سوات کیسا ہے
طالبان ریاست اور اہلکار باغی لگتے ہیں
نئی افغان پالیسی
امریکہ کے خلاف طالبان کی نئی حکمت عملی
سوات اور شکارپور
کہیں طالبان کی حکمرانی لیکن باقی پر۔۔۔
اسی بارے میں
لکی مروت: دھماکے میں دو ہلاک
21 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد