BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 February, 2009, 06:59 GMT 11:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شریعت تک ہتھیار نہ ڈالیں گے‘

 مولانا فضل اللہ
مولانا فضل اللہ اور مولانا صوفی محمد پانچ برس بعد ملے
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں طالبان نے نظام عدل ریگولیشن کے مکمل نفاذ تک ہتھیار رکھنے سے انکار کر دیا ہے۔

طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تحریکِ طالبان کے رہنما مولانا فضل اللہ اور کالعدم تحریکِ نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے درمیان جمعرات کو تحصیل مٹہ میں ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے مختلف معاملات پر تفصیلی گفتگو کی۔

اس سے قبل کالعدم نفاذشریعت محمدی کے رہنماء صوفی محمد کے صاحبزادے فضل اللہ فاروق نے کہا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان جمعہ کو ملاقات متوقع ہے تاہم اب انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مذاکرات جمعرات کو ہی ہو چکے تھے۔

مسلم خان نے کہا کہ ملاقات کے دوران مولانا فضل اللہ نے مولانا صوفی محمد اور صوبائی حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملاقات کے دوران طالبان کے ہتھیار ڈالنے کے معاملے پر بات چیت نہیں ہوئی کیونکہ بقول ان کے مولانا فضل اللہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ حکومت نظام عدل ریگولیشن پر کس حد تک عملدرآمد کراتی ہے۔

تاہم مسلم خان کا کہنا تھا کہ ’طالبان کی عسکری طاقت کا اختیار بدستور مولانا فضل اللہ کے ہاتھوں میں ہوگا اور جب تک نظام عدل ریگولیشن کو مکمل طور پر لاگو نہیں کیا جاتا تب تک اسلحہ نہیں پھینکا جا سکتا‘۔

اس سلسلے میں کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے صاحبزادے فضل اللہ فاروق سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ طالبان اور ٹی این ایس ایم کے قائدین کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور جب تک تحریری معاہدہ نہیں ہو جاتا تب تک اس بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

مذاکرات میں کالعدم تحریکِ نفاذ شریعت کے بارہ رکنی وفد کی نمائندگی تنظیم کے نائب امیر مولانا محمد عالم، امیر عزت خان، مولانا مطیع اللہ، بادشاہ زیب، ضیاء اللہ اور بعض دیگر مقامی قائدین کررہے ہیں جبکہ طالبان کے وفد میں حاجی مسلم خان، مولانا شاہ دوران، مولانا عالم المعروف کمانڈر خلیل اور دیگر مقامی رہنماء شامل ہیں۔

صوبہ سرحد کی حکومت اور کالعدم تحریکِ نفاذ شریعت محمدی کے درمیان چند دن قبل طے پانے والے معاہدے میں مالاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع اور ہزارہ ڈویژن کے ضلع کوہستان میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس معاہدے کے بعد سوات میں سرگرم طالبان نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور اسی معاہدے کے بعد بدھ کو تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے اپنے سینکڑوں حامیوں کے ہمراہ مینگورہ میں ’امن مارچ‘ بھی کیا تھا۔

 صوفی محمددوسری اننگز
مولانا صوفی محمد ایک بار پھر سینٹر سٹیج پر
موسیٰ خیل’بریکنگ نیوز‘
صحافیوں کی موت کی ایک وجہ یہ بھی ہے
ایک اور ’پسپائی‘
سوات امن معاہدہ اور اس سے وابستہ توقعات
مینگورہ ’امن مارچ‘
صوفی محمد کا ساتھیوں سمیت’امن مارچ‘
مفروضوں کا معاہدہ
مولانا فضل اللہ بیت اللہ سے علیحدہ نہیں ہوں گے
اسی بارے میں
’قتل، معاہدے کی خلاف ورزی‘
18 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد