BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 February, 2009, 09:16 GMT 14:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بریکنگ نیوز‘ نے مار ڈالا

موسیٰ خیل
عراق کے بعد پاکستان صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک جگہ ہے

میرے ایک اور صحافی دوست موسیٰ خان خیل بھی دنیا میں نہیں رہے۔ امن معاہدے کے بعد کسی غیر جانبدار پیشے سے وابستہ شخص کی موت خود ہی اس بات کی گواہی ہے کہ سوات میں امن صرف ابھی معاہدے کے مسودے پر ہی ہے۔

میرے ایک دوست نے فون کر کے بتایا کہ موسیٰ خان خیل کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے تو میں نے جواب میں کہا کہ’ نہیں میرے دوست کو نامعلوم افراد نے نہیں بلکہ بریکنگ نیوز نے مارا ہے۔‘

اخبارات اور چینل مالکان کی اشتہاری دوڑ نے مجھے موسیٰ خان خیل جیسے پانچ اور عزیز دوستوں سے محروم کر دیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے حیات اللہ، ابراہیم، نور حکیم، امیر نواب اور اللہ نور وزیر بھی اسی دوڑ کا شکار ہوئے اور نجانے ہم صحافیوں کو اور کتنے دوستوں کی یادوں کو سینے میں دفن کرنے کی صعوبت اٹھانی پڑے گی۔

جنگ زدہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کو دفاع یا جارحیت کے نام پر قتل کرنے کا مینڈیٹ تو ملا ہی ہے اور جب کبھی صحافی مرتا ہے تو گلہ، شکوہ و شکایت، تنقید اور احتجاج بھی ان دونوں کے خلاف ہوتا ہے۔ لیکن آزادی صحافت کی تنظیمیں یہ کیوں بھول جاتی ہیں کہ بجا سہی کہ صحافی کی موت کا براہ راست الزام جنگ میں مصروف سپاہیوں یا شدت پسندوں پر لگایا جاتا ہے مگر اسکی جزوی ذمہ داری خود ان پر اور ان اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے جن کے لیے انتہائی مشکل حالات میں کام کرتے ہوئےایک صحافی موت کو گلے لگا لیتا ہے۔

سکیورٹی فورسز
معصوم شہریوں کے قتل کا الزام کبھی سکیورٹی فورسز اور کبھی شدت پسندوں پر لگایا جاتا ہے

سوال یہ ہے کہ کیا صوبہ سرحد، فاٹا اور بلوچستان کے جنگ زدہ علاقوں میں اخبارات بالخصوص چینلز کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کو کبھی جنگی حالات میں رپورٹنگ کرنے کی کوئی تربیت دی جاتی ہے۔وہ جس ذہنی کرب سے گزر رہے ہوتے ہیں کیا کبھی اس کا مداوا کیا ہے۔ کیا جنگ میں برسرِ پیکار گروپوں کی دھمکیوں کے سایے میں زندگی گزارنے والے ان صحافیوں کو کبھی ان کے اداروں کے مالکان یا صحافتی تنظیموں نے جان بچانے کی کوئی ترکیب بتائی ہے۔

پاکستان کے دیگر شہروں کے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں محض آٹھ گھنٹوں تک کام کرنے والوں کو کیا معلوم کہ ان کا جنگ زدہ علاقے کا رپورٹر ساتھی ان کے پروگرام کا پیٹ بھرتے بھرتے کس کس طرح کے خطرات کا سامنا کرتا ہے۔ پر امن اور دلفریب فضاء میں بیٹھنے والا پروڈیوسر یا میزبان یا اخبار کا کوئی ایڈیٹر کیا جانے کہ ان کا رپورٹر خودکش حملے، بم دھماکے، لاشیں، بربادی اور تباہی کے مناظر رپورٹ کرتے کرتے خود کس طرح کے کربناک ذہنی انتشار کا شکار رہتا ہے۔

اور اس پر یہ کہ دور بیٹھے لوگ شورش زدہ علاقوں میں ان نزاکتوں کو بھی نہیں سمجھتے کہ اپنے رپورٹر سے ایسا کونساسوال کیا جائے کہ جواب دیتے وقت وہ ایسی بات کرنے پر مجبور نہ ہوجائے جو شدت پسند گروہوں یا سکیورٹی فورسز کو برا لگے اور وہ اس کے نام پر سرخ لکیر لگا کر اسے اپنا اگلا ٹارگٹ بنا ڈالیں۔

مجھے سوات میں کام کرنے والے کئی صحافی دوستوں نے بتایا ہے کہ انہیں اپنے اداروں نے تاکید کی ہے کہ وہ اپنے حریف چینل سے سبقت لیجانے کے لیے اپنی جان کو داؤ پر لگائیں۔ان کو لائیو رپورٹنگ کے لیے ڈی ایس این جی دیئے گئے ہیں کہ وہ بروقت موقع پر پہنچ جایا کریں۔

ایسے صحافیوں کی اپنے اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے ان احکامات کی بجا آوری میں درپیش مشکلات کی کہانی سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

موت کو ہتھیلی پر لیے ان صحافیوں کو ان خطرات کو مول لینے کا کیا ملتا ہے؟ صرف دس سے بیس ہزار روپے کی تنخوا۔ نہ لائف انشورنس، نہ طبی سہولیات کا وعدہ، نہ اپوانٹمنٹ لیٹر۔ بس کام ہی کام اور جب کبھی اس کام میں ذرا سی بھی کوتاہی ہو تو نوکری سے نکالنے کی دھمکی۔ رپورٹر کی موت تو اس وقت بھی ہو جاتی ہے جب اسے کہا جائے کہ تم کام نہیں کر سکتے۔

موسیٰ خان اور دیگر دوستوں نے کام کرتے کرتے موت کو گلے لگایا ہے۔ میری اور مجھ جیسے سینکڑوں دوسرے پاکستانی صحافیوں کی نظر میں ان کا رتبہ اور بھی بلند ہو گیا ہے۔ لیکن کیا وہ ایک اچھی، لمبی اور پرسکون زندگی گزارنے کے مستحق نہیں تھے؟

خدا انہیں غریقِ رحمت کرے۔

اسی بارے میں
صحافیوں کو درپیش چیلنج
14 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد