BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 February, 2009, 09:06 GMT 14:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد سے بھی بلامقابلہ انتخاب

صوبہ بلوچستان میں جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے
غیر سرکاری نتائج کے مطابق سنیچر کو صوبہ سرحد سے سینیٹ کی خالی ہونے والی گیارہ نشستوں پر سات ارکان بلامقابلہ ایوان بالا یعنی سینیٹ کے رکن منتخب ہوگئے ہیں۔

ان نومنتخب ہونے والے ارکان میں حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں جن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے تین ، عوامی نیشنل پارٹی کے تین اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کا ایک رکن شامل ہے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کے مطابق ان انتخابات میں ریٹرنگ افسر نے جنرل نشستوں پر آزاد اُمیدوار تنویر علی آغا کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے تھے اس لیے اس بات کا امکان ہے کہ تمام نشستوں پر اُمیداور بلامقابلہ منتخب ہوجائیں گے۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق جو اُمیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں اُن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر گلزار احمد خان، وقار احمد خان اور سردار علی خان، عوامی نیشنل پارٹی کے زاہد خان، حاجی عدیل اور عبدالنبی بنگش جبکہ جے یو آئی کے حاجی غلام علی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ حاجی غلام علی صوبائی دارحکومت پشاور کے ناظم تھے تاہم وہ ان انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

جمعہ کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ نون کے پارلیمانی لیڈر اسحاق ڈار کے درمیان مذاکرات کے بعد پاکستان مسلم لیگ نے صوبہ سرحد اور اسلام آباد سے جنرل اور خواتین کی نشستوں کے لیے اپنے اُمیدواروں کے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے تھے۔

صوبہ سرحد میں ٹیکنوکریٹ کی نشست پر پاکستان مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا کامیاب ہوجائیں گے۔ اس لیے اس بات کا امکان ہے کہ اسلام آباد سے بھی جنرل نشست اور خواتین کی مخصوص نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کے اُمیدوار بلامقابلہ منتخب ہوجائیں گے۔

اس وقت تک پاکستان کے تین صوبوں جن میں صوبہ سندھ، پنجاب اور صوبہ سرحد میں سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت کے نتیجے میں وہاں سے بلامقابلہ سینیٹرز منتخب ہوئے ہیں تاہم صوبہ بلوچستان میں جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی بارے میں
سرحد اسمبلی توڑنے کی سفارش
08 October, 2007 | پاکستان
سرحد استعفوں کا فیصلہ مؤخر
01 October, 2007 | پاکستان
سینیٹ: کہاں کون جیتے گا؟
09 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد