BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 February, 2009, 15:04 GMT 20:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شورش میں دشمن ایجنسیاں ملوث‘

پاکستانی فوج کے ترجمان
’ہر فوجی کارروائی سے قبل نفع نقصان کا اندازہ لگایا جاتا ہے‘
پاکستانی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کے قبائلی علاقوں اور سوات میں جاری شورش میں کئی ’دشمن‘ خفیہ ایجنسیاں سرگرم ہیں تاہم وہ ان کی نشاندہی اور انہیں عوام کے سامنے لانے میں کامیاب نہیں رہے ہیں۔

اسلام آباد میں ایک غیر سرکاری تنظیم ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام ’شدت پسندی، ریاست اور امن معاہدے‘ کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا تھا کہ ’دشمن‘ خفیہ ادارے نہ صرف اسلحہ تقسیم کر رہے ہیں بلکہ روایتی اور غیر روایتی انداز سے پیسہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’پیسہ منشیات سے آ رہا ہو یا خلیجی ممالک سے اس شدت پسندی کے بڑھاوے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے‘۔

ترجمان کے مطابق ہر فوجی کارروائی سے قبل نفع نقصان کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ان کے مطابق اس مرتبہ مذاکرات کو ترجیح دی گئی ہے کیونکہ فوجی آپریشن کی بڑی سیاسی قیمت ادا کرنا پڑ رہی تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال کا آپشن اب بھی موجود ہے جس کا اختیار حکومت کے پاس ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ مقامی طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے اس بیان سے وہ متفق ہیں کہ بھارت کے خلاف دونوں مل کر لڑیں گے تو فوجی ترجمان کا جواب تھا کہ’یہ سرکاری پالیسی نہیں ہے‘۔

 پیسہ منشیات سے آ رہا ہو یا خلیجی ممالک سے اس شدت پسندی کے بڑھاوے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
میجر جنرل اطہر عباس

انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ فوج نے جان بوجھ کر شدت پسند قیادت کو نشانہ نہیں بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ’یہ مشکل تھا، تاہم انہوں نے دوسری سطح کی قیادت کو نشانہ ضرور بنایا جن میں مولوی فقیر محمد کے بیٹے اور ملا طور شامل ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس شہری علاقوں میں لڑی جانے والے جنگ میں کافی مشکلات درپیش رہی ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ بلوچستان میں فوج نہیں محض ایف سی موجود ہے۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں صوبہ سرحد کے سابق چیف سیکرٹری اور ایک غیر سرکاری تنظیم کے سربراہ خالد عزیز نے کہا کہ شدت پسند انیس سو چھیانوے کے’قندھار ماڈل‘ کے تحت وہابی شدت پسند شناخت متعارف کروا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’القاعدہ ایک اسلامی شناخت پیدا کر رہی ہے۔ یہ معاملہ بظاہر ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور یہ قوتیں آزاد اور خودمختار ہو چکی ہیں۔ شدت پسندوں کو اس وقت سبقت حاصل ہے‘۔

خالد عزیز نےگزشتہ دنوں وزیرستان میں تین شدت پسند گروہوں کے اکٹھے ہونے اور ملا محمد عمر کو اپنا رہنما قرار دینے کو اس جانب ہی ایک قدم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے متفق نہیں کہ فوج شدت پسندوں کی مدد کر رہی ہوگی۔’فوج میں کوئی بھی ذی شعور ایسا جان بوجھ کر نہیں چاہے گا‘۔ان کا مشورہ تھا کہ تمام علاقائی قوتیں بشمول بھارت اور چین مل کر اس مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کریں۔

اسی بارے میں
سوات:قوم کی پشت پناہی درکار
21 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد