سوات:قوم کی پشت پناہی درکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں جمیعت علماء اسلام کے سربراہ سینیٹر مولانا سمیع الحق نے سوات میں ہونے والے امن معاہدے پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے کامیاب بنانے کے لیے پوری قوم کی پشت پناہی درکار ہوگی۔ جمیعت علماء اسلام کے سربراہ سینیٹر مولانا سمیع الحق نے سنیچر کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سوات میں ہونے والے امن معاہدے کو سراہا اور کہا کہ قیام امن کی کاوشیں مغربی ممالک کو کھٹک رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بے ضرر معاہدہ ہے جس کا مقصد علاقے میں جاری خوں ریزی اور فساد کو روکنا ہے، لیکن اس کے خلاف مخالفت کا طوفان اٹھانے سے یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ امریکہ اور نیٹو ممالک پاکستان میں امن کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتے۔ ان کے بقول اس موقع پر پوری قوم، دینی اور سیاسی قوتیں اس معاہدے کی پشت پناہی پر متحد ہونی چاہییں کیونکہ اس کی ناکامی سے پورا علاقہ بلکہ پورا ملک تباہی سے دوچار ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند اندرونی اور بیرونی عناصر اس معاہدے کو ناکام بنانے کی کوشش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ دینی طبقہ ہی بدامنی اور فساد کی جڑ ہے۔ ان کے بقول بیرونی طاقتیں مساجد و مدارس کے خلاف اپنی مہم تیز کریں گی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گی کہ دینی طاقتیں دراصل امن نہیں فساد چاہتی ہیں لہذٰا مولانا فضل اللہ کو بھی اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ مولانا سمیع الحق نے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے امن قائم ہونے کے بعد معاہدے پر دستخط کرنے کی یقین دہانی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر صاحب انڈہ پہلے یا مرغی کے چکر سے نکل جائیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین کو ایثار، حوصلے اور قربانی سے کام لینا ہوگا، اگر صدر صاحب کہیں کہ ہم امن قائم ہونے کے بعد معاہدے پر دستخط کریں گے تو پھر امن قائم ہونے کے بعد دستخط کی ضرورت ہی کیا رہے گی۔ وکلاء کے لانگ مارچ کا ساتھ دینے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ ضرور وکلاء کا ساتھ دیں گے کیونکہ ان کی جماعت کی تو جدوجہد ہی عدلیہ کے لیے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عدالتی نظام جو انگریز نے چھوڑا ہے وہ ہمیں انصاف فراہم نہیں کرسکتا لیکن عدلیہ کے نظام کی تبدیلی کو شریعت کا نفاذ نہ سمجھا جائے۔ مولانا سمیع الحق نے ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ وارانہ تشدد کے دوران ہلاکتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دو فرقوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ نہیں ہے بلکہ اس میں بیرونی عناصر ملوث ہیں جو ملک میں انتشار پیدا کررہے ہیں جن پر قابو پانے کے لیے قوم میں اتحاد کی ضرورت ہے۔ |
اسی بارے میں سوات معاہدے پر امریکہ کو پریشانی20 February, 2009 | پاکستان ’امن معاہدے پر کوئی معترض نہیں‘19 February, 2009 | پاکستان صحافی کے قتل کی تحقیقات کا اعلان19 February, 2009 | پاکستان ’قتل، معاہدے کی خلاف ورزی‘ 18 February, 2009 | پاکستان ’سوات امن عدل کی فراہمی سے آیا‘18 February, 2009 | پاکستان سوات میں صحافی کا اغواء اور قتل18 February, 2009 | پاکستان مینگورہ:صوفی محمد کا ’امن مارچ‘18 February, 2009 | پاکستان صوفی محمد: سوات جانے کا اعلان16 February, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||