BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 February, 2009, 09:38 GMT 14:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امن معاہدے کے بعد سکول کھل گئے

بہت سے تباہ شدہ سکولوں نے عارضی خیموں میں کلاسوں کا آغاز کردیا ہے

صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکومت اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد صدر مقام مینگورہ میں تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ضلع کے باقی علاقوں کے تعلیمی ادارے یکم مارچ سے کھول دیئے جائیں گئے تاہم سکولوں کی تباہ شدہ عمارتوں کی جگہ خیموں میں سکول قائم کرنے کا کام جاری ہے۔

دو روز قبل ضلع سوات میں طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ نے اپنے ایف ایم ریڈیو چینل پر خطاب کرتے ہوئے لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے پر لگائی جانے والی پابندی کو جزوی طور پر واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم سے پابندی جزوی طور پر ہٹاتے ہوئے کہا تھا کہ لڑکیوں کو صرف امتحانات دینے کی اجازت ہوگی جو سترہ مارچ سے شروع ہورہے ہیں۔


مالاکنڈہ ڈویژن کے کمشنر سید محمد جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ سرحد حکومت کی جانب سے طالبان کےساتھ ہونے والے امن معاہدے کے بعد پیر کو سوات کے صدر مقام مینگورہ میں تقریباً تمام تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوات میں تعلیمی اداروں میں سردیوں کی تعطیلات یکم مارچ تک ہوتی ہیں۔ لیکن انہوں نے اس لیے کچھ دن پہلے تعلیمی اداروں کو کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ تاکہ یکم مارچ تک اساتذہ کی حاضری یقینی ہوجائے۔

انہوں نے کہا کہ مینگورہ کے علاوہ دوسرے علاقوں میں تعلیمی ادارے کھولنے کے لیے اعلانات کیے ہیں۔ لیکن وہ پیر سے اس لیے ممکن نہ ہوسکا کہ زیادہ تر سکول تباہ کردیے گئے ہیں اور بچوں کے لیے سکولوں میں کوئی کلاس روم موجود نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پورے ضلع میں دو سو کے قریب سکول تباہ کیے گئے ہیں جن کی تعمیر پر ایک سال سے زیادہ عرصہ لگے گا۔

ادھر حکومت کی جانب سے مستقل جنگ بندی کے اعلان کے بعد سکیورٹی فورسز نے سوات میں غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف وادی سے نقل مکانی کرنے والے لوگ واپس اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہوگئے ہیں۔

سوات میڈیا سنٹر کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ گزشتہ روز صوبہ سرحد کی جانب سے سوات میں مستقل جنگ بندی کے اعلان کے بعد اتوار کو سکیورٹی فورسز نے تمام غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کردیا ہے۔

خیال رہے کہ سوات میں جنگ بندی کے حوالے سے صوبائی حکومت اور کالعدم ’تحریکِ نفاذ شریعت محمدی‘ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد مولانا فضل اللہ نے کہا تھا کہ ان کی جانب سے جو دس دن کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے اسے مستقل کرنے کا حتمی فیصلہ ان کی شوریٰ کرے گی۔

سوات کی طالبہ
’کل سکول جانا ہے، میرا دل دھڑک رہا ہے۔‘
سواتسوات: بہشتِ مرحوم
ماضی کی درس گاہ سے حال کی قتل گاہ تک
ایمنٹسی کی تشویش
’سوات میں بارہ سو ہلاک اور لاکھوں بےگھر‘
مفروضوں کا معاہدہ
مولانا فضل اللہ بیت اللہ سے علیحدہ نہیں ہوں گے
فوجی اہلکارنیا سوات کیسا ہے
طالبان ریاست اور اہلکار باغی لگتے ہیں
سواتی لڑکاسوات میں امن
وادی میں لوگوں کو جیسے نئی زندگی مِل گئی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد