BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 February, 2009, 18:45 GMT 23:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: ڈی سی او ’تبادلے‘ میں آزاد

سوات طالبان(فائل فوٹو)
طالبان نے مستقل جنگ بندی کا فیصلہ شورٰی پر چھوڑ دیا تھا
طالبان ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دو ساتھیوں کی رہائی کے بعد ڈی سی او خوشحال خان کو آزاد کر دیا گیا ہے۔

طالبان کے ترجمان مسلم خان نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ امن معاہدے کے بعد حکومت نے ان کے ایک ساتھی کو دیر میں ہلاک اور پشاور سے تین ساتھیوں کو گرفتار کیا تھا۔ تاہم اب حکومت نے گرفتار کیے جانے والے تین افراد میں سے دو کو رہا کر دیا ہے۔

تمام تر کوشش کے باوجود کوئی سرکاری اہلکار طالبان ترجمان کے بیان پر تبصرے کے لیے دستیاب نہیں ہو سکا۔

اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں مستقل جنگ بندی کے حکومتی اعلان کے ایک دن بعد ہی مقامی طالبان نے سوات کے ضلعی رابطہ افسر کو اغواء کر لیا ہے۔

مقامی حکام کے مطابق سوات کے نئے ڈی سی او خوشحال خان اپنے چھ محافظوں کے ہمراہ مینگورہ کی جانب آرہے تھے کہ قمبر کے علاقے میں انہیں اغوا کر لیا گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے ڈی سی او اور ان کے چھ محافظوں کو جی ٹی روڈ پر بندوق کے زور پر یرغمال بنایا اور کسی نامعلوم مقام پر لے گئے۔

طالبان کے ترجمان مسلم خان اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ معاہدے کے بعد حکومت نے خلاف ورزی کی ہے اور پشاور میں تین ساتھیوں کو گرفتار کیا اور دیر میں ایک کو ہلاک کیا گیا ہے۔ تاہم مسلم خان کا کہنا تھا کہ ابھی خوشحال خان ان کے پاس ہیں اور جلد ہی انہیں رہا کردیا جائے گا۔

لوگ کسی رکاوٹ کے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے ہیں

صوبہ سرحد کے وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین نے بی بی سی سے بات کرتے تصدیق کی تھی کہ خوشحال خان طالبان کی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی سی او کو’ طالبان نے اپنے پاس بٹھایا ہوا ہے‘ اور ان کی بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

سوات کے طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ڈی سی او کو اغوا نہیں کیا گیا ہے بلکہ وہ ان کے مہمان ہیں اور انہیں جلد ہی آزاد کر دیا جائے گا‘۔

ادھر حکومت کی جانب سے مستقل جنگ بندی کے اعلان کے بعد سکیورٹی فورسز نے سوات میں غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف وادی سے نقل مکانی کرنے والے لوگ واپس اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہوگئے ہیں۔

سوات میڈیا سنٹر کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ گزشتہ روز صوبہ سرحد کی جانب سے سوات میں مستقل جنگ بندی کے اعلان کے بعد اتوار کو سکیورٹی فورسز نے تمام غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن چیک پوسٹوں کو ختم کیاگیا ہے ان میں وہ چیک پوسٹیں شامل ہیں جو کرفیو کے دوران لگائی جاتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرفیو کے خاتمے کے بعد غیر ضروری چیک پوسٹوں کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ یاد رہے کہ سنیچر کو کمشنر مالاکنڈ ڈویژن نے اعلان کیا تھا کہ سوات میں قائم تمام غیر ضروری چوکیوں کو ختم کر دیا جائےگا۔

ادھر جنگ بندی کے اعلان کے بعد سوات اور ملحقہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہوگئے ہیں۔ ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مستقل جنگ بندی کے اعلان کے بعد سوات سے نقل مکانی کرنے والوں میں سے تقریباً پچاس فیصد گھرانے واپس اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زیادہ تر خاندان گاڑیوں میں اور کچھ لوگ پیدل واپس جا رہے ہیں۔

غیر ضروری چیک پوسٹوں کی ضرورت بھی نہیں رہی:حکام

ایک مقامی صحافی سلیم اطہر نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے کے بازار کھل گئے اور لوگ خرید و فروخت میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے اکثر چیک پوسٹوں سے رکاوٹیں ہٹا دی ہیں اور لوگ کسی رکاوٹ کے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے ہیں جبکہ چیک پوسٹوں پر تلاشی کا سلسلہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سوات میں جنگ بندی کے حوالے سے صوبائی حکومت اور کالعدم ’تحریکِ نفاذ شریعت محمدی‘ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد مولانا فضل اللہ نے کہا تھا کہ ان کی جانب سے جو دس دن کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے اسے مستقل کرنے کا حتمی فیصلہ ان کی شوریٰ کرے گی۔

 صوفی محمددوسری اننگز
مولانا صوفی محمد ایک بار پھر سینٹر سٹیج پر
موسیٰ خیل’بریکنگ نیوز‘
صحافیوں کی موت کی ایک وجہ یہ بھی ہے
ایک اور ’پسپائی‘
سوات امن معاہدہ اور اس سے وابستہ توقعات
مینگورہ ’امن مارچ‘
صوفی محمد کا ساتھیوں سمیت’امن مارچ‘
مفروضوں کا معاہدہ
مولانا فضل اللہ بیت اللہ سے علیحدہ نہیں ہوں گے
اسی بارے میں
’قتل، معاہدے کی خلاف ورزی‘
18 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد