سوات: ڈی سی او ’تبادلے‘ میں آزاد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دو ساتھیوں کی رہائی کے بعد ڈی سی او خوشحال خان کو آزاد کر دیا گیا ہے۔ طالبان کے ترجمان مسلم خان نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ امن معاہدے کے بعد حکومت نے ان کے ایک ساتھی کو دیر میں ہلاک اور پشاور سے تین ساتھیوں کو گرفتار کیا تھا۔ تاہم اب حکومت نے گرفتار کیے جانے والے تین افراد میں سے دو کو رہا کر دیا ہے۔ تمام تر کوشش کے باوجود کوئی سرکاری اہلکار طالبان ترجمان کے بیان پر تبصرے کے لیے دستیاب نہیں ہو سکا۔ اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں مستقل جنگ بندی کے حکومتی اعلان کے ایک دن بعد ہی مقامی طالبان نے سوات کے ضلعی رابطہ افسر کو اغواء کر لیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق سوات کے نئے ڈی سی او خوشحال خان اپنے چھ محافظوں کے ہمراہ مینگورہ کی جانب آرہے تھے کہ قمبر کے علاقے میں انہیں اغوا کر لیا گیا۔ طالبان کے ترجمان مسلم خان اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ معاہدے کے بعد حکومت نے خلاف ورزی کی ہے اور پشاور میں تین ساتھیوں کو گرفتار کیا اور دیر میں ایک کو ہلاک کیا گیا ہے۔ تاہم مسلم خان کا کہنا تھا کہ ابھی خوشحال خان ان کے پاس ہیں اور جلد ہی انہیں رہا کردیا جائے گا۔
صوبہ سرحد کے وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین نے بی بی سی سے بات کرتے تصدیق کی تھی کہ خوشحال خان طالبان کی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی سی او کو’ طالبان نے اپنے پاس بٹھایا ہوا ہے‘ اور ان کی بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سوات کے طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ڈی سی او کو اغوا نہیں کیا گیا ہے بلکہ وہ ان کے مہمان ہیں اور انہیں جلد ہی آزاد کر دیا جائے گا‘۔ ادھر حکومت کی جانب سے مستقل جنگ بندی کے اعلان کے بعد سکیورٹی فورسز نے سوات میں غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف وادی سے نقل مکانی کرنے والے لوگ واپس اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہوگئے ہیں۔ سوات میڈیا سنٹر کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ گزشتہ روز صوبہ سرحد کی جانب سے سوات میں مستقل جنگ بندی کے اعلان کے بعد اتوار کو سکیورٹی فورسز نے تمام غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کردیا ہے۔ ادھر جنگ بندی کے اعلان کے بعد سوات اور ملحقہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہوگئے ہیں۔ ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مستقل جنگ بندی کے اعلان کے بعد سوات سے نقل مکانی کرنے والوں میں سے تقریباً پچاس فیصد گھرانے واپس اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زیادہ تر خاندان گاڑیوں میں اور کچھ لوگ پیدل واپس جا رہے ہیں۔
ایک مقامی صحافی سلیم اطہر نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے کے بازار کھل گئے اور لوگ خرید و فروخت میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے اکثر چیک پوسٹوں سے رکاوٹیں ہٹا دی ہیں اور لوگ کسی رکاوٹ کے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے ہیں جبکہ چیک پوسٹوں پر تلاشی کا سلسلہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ سوات میں جنگ بندی کے حوالے سے صوبائی حکومت اور کالعدم ’تحریکِ نفاذ شریعت محمدی‘ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد مولانا فضل اللہ نے کہا تھا کہ ان کی جانب سے جو دس دن کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے اسے مستقل کرنے کا حتمی فیصلہ ان کی شوریٰ کرے گی۔ |
اسی بارے میں سوات معاہدے پر امریکہ کو پریشانی20 February, 2009 | پاکستان ’امن معاہدے پر کوئی معترض نہیں‘19 February, 2009 | پاکستان صحافی کے قتل کی تحقیقات کا اعلان19 February, 2009 | پاکستان ’قتل، معاہدے کی خلاف ورزی‘ 18 February, 2009 | پاکستان ’سوات امن عدل کی فراہمی سے آیا‘18 February, 2009 | پاکستان سوات میں صحافی کا اغواء اور قتل18 February, 2009 | پاکستان مینگورہ:صوفی محمد کا ’امن مارچ‘18 February, 2009 | پاکستان صوفی محمد: سوات جانے کا اعلان16 February, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||