BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 February, 2009, 19:42 GMT 00:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات میں طالبات پر پابندی کا اثر

طوبیٰ سحاب
طوبیٰ سحاب اسلام آباد کے ایک مقامی سکول میں چھٹی جماعت میں پڑھتی ہیں
سوات میں لڑکیوں کی تعلیم پر طالبان کی پابندیوں کا اثر پاکستان کے دوسرے علاقوں کے سکولوں میں پڑھنے والے بچوں پر بھی پڑ رہا ہے۔

ایسے ہی بچوں میں اسلام آباد کے ایک مقامی سکول میں چھٹی جماعت میں پڑھنے والی دس سالہ طوبیٰ سحاب بھی ہیں جنہوں نے سوات کی تباہ حال صورتحال کے بارے میں اپنے جذبات کو لفظوں میں ڈھالا ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں دو نظمیں بھی لکھی ہیں۔ان نظموں کا متن یہ ہے کہ سوات میں خون ریزی کی وجہ سے جہاں ہزاروں خاندان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے وہاں پر اُگنے والے پھول بھر مرجھا گئے ہیں۔ ان نظموں میں یہ اُمید دلائی گئی ہے کہ امن ایک مرتبہ پھر سوات کا رُخ کرے گا اور بہاریں دوبارہ اپنے جوبن پر آئیں گی اور علاقے میں خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔

بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات میں طوبیٰ سحاب کا کہنا تھا کہ اُنہیں اس بات کا بہت دکھ ہے کہ سوات کے علاقے میں شدت پسندوں نے لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اسلام نے عورت کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی تو پھر اس کے سکول کیوں تباہ کیے جا رہے ہیں اور اُنہیں کیوں پسماندگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سکول میں اپنی کلاس فیلوز کے ساتھ سوات کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتی ہیں۔

طوبی صحاب کا کہنا تھا کہ وہ اپنے سکول میں ایک مہم شروع کرنے کا اردہ رکھتی ہیں جس میں سوات میں سکول کے بچوں کے لیے کتابیں خریدنے کے لیے چندہ اکھٹا کیا جائے گا۔

طوبی کی مختصر کہانیوں پر مشتمل ایک کتاب بھی شائع ہوچکی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ وہ اپنی سہلیوں کے ساتھ سوات جانے کا ارداہ رکھتی ہیں تاکہ وہاں پر سکول جانے والے بچوں کے ساتھ وہ کچھ وقت گذار سکیں اور اُن کے خیالات جان سکیں تاہم اس کا انحصار گھر والوں کی اجازت پر منحصر ہوگا۔

طالبعلم گھروں میں پڑھیں
 شدت پسندوں کی طرف سے تعمیلی اداروں کو نشانہ بنائے جانے کی وجہ سے طالبعلم سکول جانے سے قاصر ہیں تاہم وہ اپنے گھروں میں بیٹھ کر ہی پرانی کتابیں پڑھا کریں تاکہ اُن کا تعلیم کے ساتھ تعلق برقرار ہے
طوبیٰ صحاب

انہوں نے سوات میں سکول جانے والے بچوں سے کہا کہ اگرچہ شدت پسندوں کی طرف سے تعمیلی اداروں کو نشانہ بنائے جانے کی وجہ سے طالبعلم سکول جانے سے قاصر ہیں تاہم وہ اپنے گھروں میں بیٹھ کر ہی پرانی کتابیں پڑھا کریں تاکہ اُن کا تعلیم کے ساتھ تعلق برقرار ہے۔

جو خاندان سوات سے ہجرت کرچکے ہیں اُن کے بارے میں طوبیٰ صحاب کا کہنا تھا کہ جب تک وہاں پر امن قائم نہیں ہوتا اُس وقت تک وہ امن والے علاقوں میں رہیں۔

طوبی کا کہنا تھا کہ سوات میں جنگ کے حالات طالبعلموں کے ذہنوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اس لیے اُن کے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کریں۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ اُن افراد کے ساتھ مذاکرات کریں جنہوں نے علاقے کا امن تباہ کیا ہے اور تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کریں کیونکہ شدت پسندوں نے ہتھیار کسی وجہ سے ہی اُٹھائے ہوں گے۔

فوجی اہلکارنیا سوات کیسا ہے
طالبان ریاست اور اہلکار باغی لگتے ہیں
آخری ملاقات
موسیٰ خان کے قتل سے صرف دو گھنٹے پہلے
صحافیوں کا احتجاجصحافی کا قتل
صحافی کے قتل، طالبان اور حکومتی تحقیقات
موسیٰ خیل’بریکنگ نیوز‘
صحافیوں کی موت کی ایک وجہ یہ بھی ہے
مفروضوں کا معاہدہ
مولانا فضل اللہ بیت اللہ سے علیحدہ نہیں ہوں گے
ایک اور ’پسپائی‘
سوات امن معاہدہ اور اس سے وابستہ توقعات
صحافی کا قتل
طالبان نے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد