BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 February, 2009, 22:38 GMT 03:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موسی خان سے آخری ملاقات

مقتول صحافی
موسی خان کو پہلے بھی جان سے مارے جانے کی دھمکیاں ملی تھیں
میں اپنے پیارے دوست موسی خان خیل سے آخری مرتبہ ان کے قتل سے صرف دو گھنٹے پہلے ملا تھا۔

بدھ کو جب میں پشاور سے مینگورہ پہنچا تو سوات کانٹیننٹل ہوٹل میں، جہاں پر ملکی اور بین اقوامی ذرائع ابلاغ سے وابستہ رپورٹرز ٹھہرے ہوئے تھے، میری سب سے پہلے نظر موسی خان خیل پر پڑی جو ہوٹل کے لابی میں بیٹھے ہوئے تھے۔

مجھے دیکھتے ہی وہ میرے طرف دوڑ پڑے۔ ان کے ملنے کا اپنا ایک انداز تھا، دور سے ہی کہا’ہاں ہم غریبوں کو کون پوچھتا ہے، رفعت بھائی آپ نے تو مجھے بھلا دیا۔‘

میں نے علیک سلیک کی اور پھر اس نے میرے ہاتھ سے لیپ ٹاپ لے لیا اور مجھے ہوٹل میں تیسری منزل پر کمرے کی طرف لے جانے لگے۔

میں نے کہا کہ یار موسی یہ لیپ ٹاپ اتنا بھاری نہیں، مجھے دے دو آپ کیوں تکلیف کررہے ہیں لیکن جیسے یہاں پشتونوں میں روایت ہے کہ جب کسی علاقے میں کوئی مہمان جاتا ہے تو میزبان احترامً اس کے ہاتھ سے سارا سامان لے لیتے ہیں۔

مجھے کمرے تک لے گئے۔ اس وقت دن کے کھانے کا وقت ہورہا تھا۔ وہاں کھڑے ہوٹل کے بیرے کو کہا کہ کھانے کا بل نہیں لینا کیونکہ یہ کھانا میری طرف سے ہوگا۔

یہ لوگ پشاور سے آئے ہیں مہمان ہیں۔ میرے ساتھ ڈرائیور بھی تھا۔ لیکن میں نے کہا موسی خان پھر کبھی آپ سے کھائیں گے مگر وہ بضد رہے۔ تاہم دس منٹ کے بحث کے بعد موسی خان کو میں نے اس بات پر راضی کرلیا کہ آج نہیں بلکہ کل (جمعرات ) کا کھانا آپ کے ساتھ کھاؤں گا۔

مگر مجھے کیا پتہ تھا کہ موسی خان کا یہ ملنا مجھے بعد میں کتنی ٹھیس پنچائے گا۔ پھر ہم مولانا صوفی محمد کے کاروان کے ساتھ مٹہ گئے تو وہاں میں تو رپورٹنگ کرنے کےلیے جلسہ گاہ کے اندر پہنچ گیا جبکہ ڈرائیور گاڑی کے ہمراہ باہر مٹہ بازار میں انتظار کرتا رہا۔

بعد میں ڈرائیورسید رحمان نے بتایا کہ انہیں مٹہ بازار میں موسی خان خیل ملے تھے اور وہ اکیلے تھے اور آپ کا بھی پوچھ رہے تھے ۔ ڈرائیور کے مطابق موسی خان نے اسے بتایا تھا کہ وہ گاڑی کے قریب کھڑا رہے کیونکہ یہاں حالات ٹھیک نہیں۔

شاہد یہی وہ وقت تھا جب وہ آخری بار مٹہ میں دیکھے گئے تھے اور اس کے بعد وہ نامعلوم افراد کی طرف سے اغواء ہوئے اور پھر شام کو گولیاں سے چھلنی لاش ملی۔

موسی خان خبر کی تلاش میں نکلے تھے لیکن چند ہی گھنٹوں میں ساری دنیا کےلیے بڑی خبر بن گئے۔ موسی خان کے بھائی عسیٰ خان خیل، جو خود بھی صحافی ہیں، رو رو کر مجھے کہہ رہے تھے کہ’میں کس سے اپنے بھائی کا خون مانگو، کس کے پاس جاؤں ، کیا کروں ، مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔‘

سوات کے ایک سنئیر صحافی کا کہنا ہے کہ موت سے پہلے موسی خان نے ان کو بتایا تھا کہ بدھ کو سوات میں کوئی صحافی قتل ہوگا۔ یہ بات جیو ٹیلی ویژن کے سنئیر رپورٹر اور اینکر حامد میر نے مینگورہ میں صحافیوں کے احتجاج کے دوران کہی۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ ان کے پاس موسی خان خیل کے ریکارڈڈ انٹرویوز موجود ہیں جس میں مقتول صحافی نے خود کو ملنے والی دھمکیوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا ہے۔

مقتول صحافی کو گزشتہ کچھ عرصہ سے نامعلوم افراد کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔

ایک بار وہ جرائم پیشہ گروہوں کی طرف سے اغواء بھی ہوئے اور بازیابی کے بعد انہوں نے بتایا تھا کہ اغواء کار انہیں دیر کی طرف لے گئے تھے۔

اسی بارے میں
صحافیوں کو درپیش چیلنج
14 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد