سوات میں لڑکوں کےسکول کھل گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکومت اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد پورے سوات میں لڑکوں کے تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں۔لیکن لڑکیوں کے سکول خیموں کے انتظامات مکمل کرنے کے بعد کھل دئیے جائیں گے۔ ملاکنڈہ ڈویژن کے کمشنر سید محمد جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات میں پیر سے لڑکوں کے تمام تعلیمی ادارے تو کھل گئے ہیں۔تاھم لڑکیوں کے سکول دس مارچ کے بعد کھول دیئے جائیں گئے انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کے سکولوں کی تباہ شدہ عمارتوں کی جگہ خیموں میں سکول قائم کرنے کا کام جاری ہے۔جس کے مکمل ہونے تک لڑکیوں کے سکول بند رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مقام مینگور کے علاوہ باقی علاقوں کے سکولوں میں لڑکے کھلے میدان میں بیھٹے ہیں لیکن لڑکیوں کا پردے کا مسئلہ کا ہے کیونکہ ان کو کھلے میدان میں نہیں بیھٹایا جا سکتا۔ اس سے قبل ضلع سوات میں طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ نے اپنے ایف ایم ریڈیو چینل پر خطاب کرتے ہوئے لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے پر لگائی جانے والی پابندی کو جزوی طور پر واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم سے پابندی جزوی طور پر ہٹاتے ہوئے کہا تھا کہ لڑکیوں کو صرف امتحانات دینے کی اجازت ہوگی جو سترہ مارچ سے شروع ہورہے ہیں۔ سرحد حکومت کی جانب سے طالبان کےساتھ ہونے والے امن معاہدے کے بعد ایک ہفتہ پہلے سوات کے صدر مقام مینگورہ میں تقریباً تمام تعلیمی ادارے کھل گئے تھے۔ اس وقت کمشنر ملاکنڈہ ڈویژن نے اعلان کیا تھا کہ سوات میں تعلیمی اداروں میں سردیوں کی تعطیلات یکم مارچ تک ہوتی ہیں۔ لیکن انہوں نے اس لیے کچھ دن پہلے تعلیمی اداروں کو کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ تاکہ یکم مارچ تک اساتذہ کی حاضری یقینی ہوجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے ضلع میں دو سو کے قریب سکول تباہ کیے گئے ہیں جن کی تعمیر پر ایک سال سے زیادہ عرصہ لگے گا۔ ادھر حکومت کی جانب سے مستقل جنگ بندی کے اعلان کے بعد سکیورٹی فورسز نے سوات میں غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف وادی سے نقل مکانی کرنے والے لوگ واپس اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہوگئے ہیں۔ سوات میڈیا سنٹر کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ گزشتہ روز صوبہ سرحد کی جانب سے سوات میں مستقل جنگ بندی کے اعلان کے بعد اتوار کو سکیورٹی فورسز نے تمام غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کردیا ہے۔ خیال رہے کہ سوات میں جنگ بندی کے حوالے سے صوبائی حکومت اور کالعدم ’تحریکِ نفاذ شریعت محمدی‘ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد گزشتہ روز مولانا صوفی محمد نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ صوبائی حکومت کے اقدامات سے مطمئین نہیں ہے۔اور پندرہ مارچ تک ایک دوسرے کے قیدیوں کی رہائی کی ڈیڈلائن دی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||