معاہدے کے بعد سوات کا سفر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ڈیڑھ سال تک میدان جنگ رہنے والا سوات صرف تشدد کی آگ میں جلتا رہا۔ اکتوبر سنہ دوہزار سات میں طالبان کا صفایا کرنے کے لیے جو فوجی کارروائی شروع کی گئی تھی اس میں طالبان کا صفایا کیا ہونا تھا الٹا رواں سال سولہ فروری کو حکومت نے نفاذ شریعت کے نفاذ کا اعلان کرکے بظاہر اس ریفری کا کردار ادا کیا جو ’ رینک’ میں فاتح کھلاڑی کا ہاتھ اوپر کرکے ان کے فتح کا اعلان کرتا ہے۔ میں اور ہمارے بی بی سی کے سنیئر ساتھی محمد حنیف نے امن معاہدے کے بعد سوات کا جو دورہ کیا اور اس دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے جو گفتگو کی تو ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ ڈیڑھ سال کی جنگ میں اگر کسی کو صحیح معنوں میں شکست ہوئی ہے تو وہ ہے سوات یعنی یہاں کے لوگ، خواتین، طلبہ و طالبات اور پروفیشنلز کی۔ ہم رات کے تقریباً ساڑھے آٹھ بجے مینگورہ پہنچے تو دنیا میں سیاحت کے لیے مشہور اور دیر تک جاگنے والا یہ شہر خاموشی کی چادر لپیٹ کر سو چکا تھا۔ یہ تھکن کی نہیں خوف کی نیند تھی۔ہم جس ہوٹل میں ٹھرنے گئے اس میں بھی شاید ہم دونوں کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔ حالانکہ یہی ہوٹل تھا جس میں ڈیڑھ سال پہلے کمرہ ملنا محال تھا۔ پولیس اسٹیشن کے سامنے واقع ہونے کی وجہ سے کئی حملوں کے اثرات ہوٹل کی عمارت پر واضح نظر آرہے تھے۔ طالبان نے کیبل پر پابندی لگائی تو ہمیں دیکھنے کے لیے صرف دو ہی نیوز چینل ملے۔ اگلی صبح ہم نے اپنے کام کا آغاز سکولوں سے جاکر کیا۔طالبان نے لڑکیوں کی تعلیمی پر پابندی لگائی تھی اور ساتھ میں لڑکوں کے تعلیمی ادارے بھی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے بند ہوگئے تھے۔ سولہ فروری کو امن معاہدہ ہوا تو طالبان نے بھی تعلیم پر سے پابندی اٹھالی۔ سکول کے ایک استاد کے بقول سوات میں امن لڑکیوں کے سکولوں پر پابندی کے نتیجے میں آیا ہے لیکن اس میں ہم نے اس جملے کا اضافہ بھی کیا کہ’ طالبان کو بھی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے نتیجے ہی میں فتح نصیب ہوئی ہے۔‘ ہم پہلے لڑکوں کے سکول گئے اور دسویں جماعت کے طلبہ سے گفتگو کی۔ سبھی طالبان کی جانب سے تعلیم پر پابندی لگانے پر خفا تھے۔ ایک طالبعلم جو حافظ قرآن بھی تھے کا خیال تھا کہ’چونکہ طالبان پڑھے لکھے نہیں ہیں اس لیے وہ تعلیم پر پابندی لگارہے ہیں۔‘
اس کے بعد لڑکیوں کے سکول کی جانب روانہ ہوئے تو راستہ میں ایک تقریباً بارہ سال کا بچہ ملا جس نے بتایا کہ وہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے کل اسلام آباد جارہا ہے۔اس سے امن معاہدے کی پائیداری کا زیادہ یقین نہیں تھا۔ لڑکیوں کے سکول میں داخل ہوئے تو صحن میں بچوں اور بچیوں کو دیکھا جن میں بعض پڑھ لکھ رہے تھے اور کچھ کھیل کھود میں مشغول تھے۔ پانچویں جماعت میں لڑکیوں سے انٹرویوز کیے تو انہوں نے حیران کن حد تک اپنا مافی الضمیر بیان کیا اور ہمیں مسائل کے بارے میں بچیوں کے پختہ خیالات سننے کو ملے۔ ایک طالبہ کہنے لگی کہ’ اب اگر امن نہیں آتا تو پھر امریکہ آئے گا اور وہ میزائل استعمال کرے گا کیونکہ امریکہ کے پاس یا تو میزائل ہے یا ایٹم بم۔‘ ایک دوسری طالبہ بھی طالبان پر برہم نظر آئی کہنے لگی۔’طالبان نے ہماری تعلیم پر پابندی لگاکر اچھا نہیں کیا۔ایک تعلیم یافتہ ماں ہی اپنے بچوں کی اچھی طریقے سے تربیت کرسکتی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ جب کوئی خاتون بیمار ہوگی تو کیا یہ اچھا ہوگا کہ وہ مرد ڈاکٹر سے علاج کروائیں۔؟‘ سکولوں کے دورے سے فارغ ہوکر ہم کسی پروفیشنل سے بات کرنے کے لیے ایک نرس کے پاس پہنچے۔ انہوں نے سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر نام بتانے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں خواتین کے لیے زندگی بہت ابتر ہوچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ راستے میں آتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے جبکہ اپنی ضرورت کی اشیاء خریدنے کے لیے بازار نہیں جاسکتے۔ بہت ساری نرسیں سوات چھوڑ کر چلی گئی ہیں۔ انہیں ایسا لگ رہا تھا کہ پروفیشنل خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کی وجہ سے اگلے کئی برسوں میں سوات کو پروفیشنل خواتین کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سوال پر کہ طالبان نے خواتین کے کام کرنے پر پابندی لگاتے ہیں تو کیا کسی نے آکر خودہی ان سے اپنے خواتین کا علاج کروایا ہے تو ان کا جواب تھا’ ہاں ایک دفعہ طالب کمانڈر اپنی بیوی کو علاج کے لیے لایا تھا مگر بعد میں انہوں نے پیسے دینے سے انکار کیا اور نازیبا کلمات اد کیئے۔‘ یہاں کام مکمل کرنے کے بعد ہم مینگورہ کے وسط میں واقع خواتین کے لیے مخصوص چینہ مارکیٹ پہنچ گئے تو ان الفاظ سے مزین ایک بینر نے ہمارا استقبال کیا کہ’ پردہ اور حیاء عورت کا زیور ہے‘ ساتھ میں ایک اور بینر پر یہ تسلی بھی دی گئی تھی کہ’یہاں پر بچوں اور خواتین کے حفاظت کا مکمل انتظام موجود ہے۔‘ چینہ مارکیٹ کو اس وقت شہرت ملی جب طالبان نے خواتین کی شاپنگ کو ’غیر اسلامی‘ فعل قرار دیتے ہوئےاس پر پابندی لگا دی۔ تب سے درجنوں دکانوں پر مشتمل اس مارکیٹ کے دکاندار صبح سے شام تک خاتون گاہک کی راہ ہی تک رہے ہیں۔ ہم جس وقت داخل ہوئے تو خواتین کے اس مارکیٹ میں کوئی خاتون نظر نہیں آئی البتہ دکانداروں میں سے کوئی دھوپ سینک رہا تھا تو کوئی قہوہ چائے پی رہا تھا اور ایک آدھ اخبار پڑھنے میں مصروف دکھائی دیا۔ دکانوں میں خواتین کے بناؤ سنگھار کا سامان، جوتیاں اور رنگ برنگے کپڑے لٹک رہے تھے۔ان میں سےایک دکاندار فضل معبود روشان جو باقی دکانداروں کے مقابلے میں اس لیے خوش قمست تھے کہ وہ پشتو اور ارود کے شاعر اور ادیب تھے جنہیں اگرچہ جوتے خریدنے والے گاہک نہیں ملے مگر ہم جیسے واہ واہ کی حدت تک اہل ذوق تو ملے۔ فضل معبود روشان صاحب نے ہمیں اپنی کتابیں عنایت کیں اور ہم ان کی شاعری سے بھی محظوظ ہوئے۔وہ خواتین کی شاپنگ پر لگی پابندی کے حوالے سے دو ٹوک بات کرنے سے کتراتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ بازار اس لیے ٹھنڈا ہے کہ امن و امان کا مسئلہ ہے اور اب جب بھی حالات درست ہونگے تو ان کا کاروبار بھی اچھا ہو جائے گا۔ وہ طالبان کا ذکر صیغہ واحد غائب میں کیا کرتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ اگر ان کا یہ کاروبار ختم ہوگیا تو وہ کیا کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ’ ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو سو اور دروازے کھل جاتے ہیں’ لیکن جب ہم نے کہا کہ’ لیکن وہی دروازہ دوبارہ نہیں کھلے گا جو بند ہوچکا ہے’ تو انہوں نے صرف مسکراہٹ پر ہی اکتفا کیا۔ اس کے بعد ہم میوزک سینٹر کی تلاش میں نکلے مگر جب تقریباً دو درجن دکانوں پر مشتمل مارکیٹ میں داخل ہوئے تو وہاں پر میوزک سینٹر تو نظر نہیں آیا البتہ کباب ، موبائل کا سامان بیچنے والی دکانیں نظر آئیں اور ایک حمام بھی تھا جس پر لکھا گیا تھا کہ ’یہاں پر شیو بنانا ممنوع ہے۔‘ ایک دکان کے سامنے بیٹھے چند افراد میں سے ایک نے بتایا کہ یہ سامنے بند دکان انکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے تمام میوزک سینٹروں کو بموں سے اڑادیا ہے اور جو باقی بچ گئے تھے وہ بند ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق مینگورہ میں سی ڈی اور میوزک کی تقریباً پانچ چھ مارکیٹیں تھیں جن میں پانچ سے چھ سو تک دکانیں تھیں مگر اب ایک بھی کھلی نہیں ملے گی۔ ہمارے پروگرام میں گرین چوک بھی شامل تھا جس سے تین ہفتوں کی لاشوں نے خونی چوک کے نام سے مشہور کردیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق اس چوک پر تقریباً تین ہفتوں کے دوران پچاس کے قریب لاشیں رکھی گئی تھیں جسکا مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرنا تھا۔ یہاں پر ہمیں ایک بچہ ملا جو ریڑھی میں جہادی ترانوں کی کیسٹیں بیچ رہا تھا۔ ریڑھی کے آگے بڑا پردہ آویزاں کیا گیا تھا جس پر لکھا تھا کہ اہلیان سوات کو شریعت کا نفاذ مبارک ہو۔ لڑکے نے بتایا کہ وہ دن میں پچاس کے قریب کیسٹیں بیچتے ہیں۔ ان میں وزیرستان اور سوات کے طالبان سے متلعق ترانوں کی کیسٹیں تھیں۔ ہم نے اپنے دورے کے دوران کوشش کی کہ رقاصاؤوں اور بیوٹی پارلر سے بھی بات کی جائے مگر ہمیں بتایا گیا کہ سوات کی فضاء میں اب پائل کی چھن چھن نہیں توپ اور گولی کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ سوات کی رقاصاؤں کے گھنگرو کی آوازیں اب پشاور، پنڈی، لاہور اور کراچی کی ہواؤں سے ہم آغوش ہورہی ہیں۔ مینگورہ میں ان کا مسکن بنڑ یعنی گلستان اب اجڑ چکا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||