BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 February, 2009, 10:03 GMT 15:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گورنر راج:سپریم کورٹ میں چیلنج

 پاکستان کی سپریم کورٹ فائل فوٹو
درخواست میں صدر آصف علی زرداری اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے
صدر آصف علی زرداری کی جانب سے پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج اُن احتجاجی مظاہرین کی حوصلہ افزائی کے لیے نافذ کیا گیا ہے جو مارچ کے مہینے میں سپریم کورٹ کے محاصرے کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔

یہ درخواست سنیچر کو شاہد اورکزئی نے آئین کی دفعہ 184 کے تحت دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی صوبے کے وزیراعلٰی کی برطرفی گورنر راج کے نفاذ کی اجازت نہیں دیتی۔

درخواست میں عدالت سے استفسار کیا گیا ہے کہ کیا ایک رکن صوبائی اسمبلی کے نااہل ہونے سے صوبائی اسمبلی دو ماہ کے لیے معطل کی جاسکتی ہے۔ اس درخواست میں صدر آصف علی زرداری اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت صوبہ پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کا ملبہ بالواسطہ طور پر عدالت عظمٰی پر ڈال رہی ہے حالانکہ شریف برادران کی اہلیت کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اور وفاق کے نمائندے نے صوبے میں گورنر راج کا اشارہ تک نہ دیا۔

درخواست گزار نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کا صدارتی حکم نامہ آئین اور مملکت کے وفاقی ڈھانچے کو مسخ کرنے کی ایک بھونڈی حرکت ہے اور اس کا مقصد پنجاب کے ووٹروں کو وفاقی حکومت سے زیادہ ملک کے خلاف اُکسانہ ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 112 ایسی اسمبلی کو معطل یا تحلیل کرنے کی اجازت نہیں دیتا جہاں پر اسمبلی کی اکثریت کسی ایک رکن پر اعتماد کا اظہار کرچکی ہو۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت گورنر پنجاب کی رپورٹ اور تمام معلومات کا جائزہ لے گی جن کا ذکر صدارتی حکم نامے میں کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ صدارتی حکم نامے کو کسی ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا اور صرف سپریم کورٹ ہی واحد فورم ہے جہاں پر اس کو چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے 3 نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی اور اُس وقت عبوری آئینی حکم نامے (پی سی او) کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ملک میں لگائی جانے والی ایمرجنسی اور صدر مشرف کے دوسرے اقدامات کو جائز قرار دیا تھا۔

سلمان تاثیرگورنر سلمان تاثیر
نااہلیوں کے بعد تخت لاہور کانیافرمانروا
زرداریوال سٹریٹ جرنل
زرداری نفاق کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔
جنرل اشفاق پرویز کیانیمبصرین کی رائے
’فوج مداخلت کی پوزیشن میں نہیں‘
پاکستانی اخبارات تنقید کی زد میں
نااہلی اور گورنر راج پاکستانی اخبارات میں
لیگیوں کا احتجاجقیادت کی نااہلی
لیگیوں کا علامتی اجلاس اور مظاہرہ
منظور وٹو (فائل فوٹو)ایساکب نہیں ہوا!
شریف نااہلی جیسے واقعات تاریخ میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد