بینظیر کی تصاویر، احتجاجی مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور اور راولپنڈی میں گزشتہ دنوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مقتول چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی تصاویر جلانے کے جو واقعات پیش آئے ہیں ان کے خلاف سندھ کے کئی شہروں میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور مسلم لیگ نون اور اس کے رہنماؤں پر کڑی تنقید کی ہے۔ لاڑکانہ، سکھر، وارہ، ڈوکری، میروخان، شھدادکوٹ، دادو، باگڑجی، نوشہرو فیروز، نوابشاھ، حیدرآباد اور ٹھٹھ سمیت کئی شہروں میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے احتجاجی جلوس نکالے ہیں۔ جواب میں مسلم لیگ نون نے سختی سے تردید کی ہے کہ بینظیر بھٹو کی تصاویر جلانے میں اس کے کارکنوں کا کوئی ہاتھ ہے۔ کراچی پریس کلب کے باہر مسلم لیگ نون کی جانب سے احتجاج کے موقع پر صدر آصف علی زرداری کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیا گیا جبکہ پیپلز پارٹی کے متعلق احتیاط برتی گئی ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما سلیم ضیا کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کی تصاویر اور ان کی ہلاکت کی جگہ یادگار نذر آتش کرنے کے واقعات میں مسلم لیگ ن ملوث نہیں ہیں اور ایسامعلوم ہوتا ہے کہ یہ کام ایجنسیوں کا ہے۔ ایک دوسرے رہنما زاہد رفیق بٹ کا کہنا تھا ان کی پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ہے۔ بینظیر بھٹو کے ساتھ نواز شریف نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کیئے تھے، اس جمہوریت کے لیے پیپلز پارٹی کے ساتھ مسلم لیگ کی بھی قربانیاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو چاہیئے کہ وہ اس سازش کو سمجھیں مسلم لیگ نون آج بھی بینظیر بھٹو کی قربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ سندھ حکومت یا پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت نے تو اس پر کوئی رد عمل نہیں دیا، مگر ہاری مارچ کے اختتام پر لوگوں سے خطاب کرتے صوبائی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر جذباتی ہوگئیں اور بینظیر بھٹو کی یادگار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’سندھ کے لوگ اگر تین لاشیں وصول کر سکتے ہیں تو رائیونڈ یہاں سے دور نہیں ہے، وہ دمادم مست قلندر ہوگا کہ انہیں منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔‘ ’ یادگار جلانا ان کی بدنیتی ہے یہ کسی بھی جمہوری شخصیت کی عزت کرنا ہی نہیں جانتے، یہ ضیا الحق کے گمبلے میں کھلے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں بھی ان کی نیت صاف نہیں تھی۔ ’ان کا کہنا تھا کہ حکومت سازی میں متحدہ قومی موومنٹ کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ ہم نے انہیں کہ کہا وہ بھی عوامی مینڈیٹ رکھتے ہیں، بعد میں انہوں نے اے پی ڈی ایم بنائی۔ یہ تو ہمیشہ نکلتے ہی رہے ہیں اور پیپلز پارٹی ان کو ساتھ لیکر چلتی رہی ہے۔‘ مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف تین مارچ سے سندھ کا دورہ کریں گے۔ اس دوران وہ لاڑکانہ سمیت دیگر شہروں میں جلسوں سے خطاب کریں گے۔ |
اسی بارے میں گورنر راج: ابتدائی طور پر دو ماہ25 February, 2009 | پاکستان قاف لیگ ایک بار پھر میدان میں25 February, 2009 | پاکستان ’زرداری سودے بازی چاہتے تھے‘25 February, 2009 | پاکستان پنجاب: اعلٰی افسران کی تبدیلی25 February, 2009 | پاکستان گورنر راج، اسمبلی کے باہر ’اجلاس‘26 February, 2009 | پاکستان ’نااہلیت کے فیصلے پر صدمہ ہوا‘26 February, 2009 | پاکستان نواز اور شہباز کی نشستیں خالی26 February, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||