گورنر راج: ابتدائی طور پر دو ماہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے صوبہ پنجاب کے گورنر کی رپورٹ کے بعد وزیراعظم کے مشورے پر صوبے میں دو ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کردیا ہے۔ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر نے آئین کی شق دو سو چونتیس کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے گورنر راج نافذ کیا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بدھ کی شام صدر سے ملاقات کی جس میں صدر نے ان سے مشاورت کے بعد صدارتی فرمان جاری کیا۔ صدارتی فرمان میں صدرِ پاکستان نے پنجاب کے گونر سے کہا ہے کہ وہ ان کی طرف سے حکومتِ پنجاب کے اختیارات سنبھالیں اور جس حد تک وہ (صدر) چاہیں اور جیسے چاہیں وہ اس پر عمل کریں۔ صدارتی فرمان میں وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کی کابینہ کو فوری طور پر کام کرنے سے روک دیا ہے۔ آئین کے مطابق صدارتی فرمان کی مجلس شوریٰ سے توثیق کرانی لازم ہے۔ صدر اگر چاہیں تو دو ماہ کے لیے گورنر راج میں اضافہ کرسکتے ہیں لیکن اس کی دوبارہ توثیق بھی لازمی ہے۔ آئین کے مطابق کسی بھی طور پر صدر چھ ماہ سے زیادہ گورنر راج نافذ نہیں کرسکتے۔ گورنر راج کے دوران صوبائی اسمبلی اور ہائی کورٹ کے اختیارات کے علاوہ تمام انتظامی اختیارات گورنر کو مل جاتے ہیں۔ آئین کے تحت صوبائی اسمبلی کا اختیار مجلس شوریٰ کو مل جاتا ہے۔ جبکہ ہائی کورٹ بدستور آئین کے تحت کام کرتی رہتی ہے۔ آئین کی شق دو سو چھتیس کے تحت صدارتی فرمان کو کسی بھی عدالت میں چیلینج نہیں کیا جاسکتا۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||