BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 February, 2009, 19:11 GMT 00:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جوڑ توڑ کی ماہر شخصیت‘

سلمان تاثیر
سیاسی حلقوں میں انہیں معاملہ فہمی اور موقعہ شناسی کا ماہر سمجھا جاتا ہے
پنجاب میں گورنر راج کے بعد تمام انتظامی اور حکومتی اختیارات سلمان تاثیر کے ہاتھ میں آچکے ہیں جو خود کو نہ صرف سیاسی بلکہ پیپلز پارٹی کا گورنر قرار دیتے ہیں۔

نو مہینے پہلے گورنر کا حلف اٹھانے والے سلمان تاثیر نے مسلم لیگ نون کے لیے پنجاب کی حکومت اگر کانٹوں کا تخت نہیں بنائی تھی تو پھولوں کی سیج بھی نہیں رہنے دی۔ حلف اٹھاتے ہی انہوں نے لاہور کو پیپلز پارٹی کا لاڑکانہ بنانے کی بات کی اور پھر ہر قدم پر مسلم لیگ نون کے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کے لیے وہ انتباہی خطوط بھی تحریری کرتے رہے۔

انہوں نے منظور وٹو سے لیکر پرویز الہی تک ان تمام اہم شخصیات کے لیے گورنر ہاؤس کے دروازے وا رکھے جو شریف بردران کے خلاف بات کرتے تھے۔

انہوں نے پنجاب کے ان چوبیس ضلعی ناظمین کو گورنر ہاؤس میں بلایا جو شہباز شریف کے خلاف سخت لہجے میں بات کررہے تھے۔گورنر نے نہ صرف انہیں تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی بلکہ ان کے ساتھ ملکر شہبازشریف مخالف پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔

ایک میڈیا کنگ اور کامیاب کاروباری شخصیت کو طور پر اپنا مقام بنانے والے سلمان تاثیر، پیپلز پارٹی کی بدلتی ہوئی شبیہہ اور کاروبار سلطنت کے انداز نو پہ صحیح طور پر پورا اترے اور جلد ہی پارٹی کے نئے سربراہ آصف زرداری کے منظور نظر بن گئے۔ سیاسی حلقوں میں انہیں جوڑ توڑ کا بادشاہ اور کچھ ایسی صلاحیتوں کا حامل سمجھاجاتا ہے جو حالیہ بحرانی دور میں پیپلز پارٹی کے لیے بہت کارگر ثابت ہوسکتی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نوید چودھری نے بتایا کہ سلمان تاثیر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں قاسم ضیاء اورمیاں یوسف صلاح الدین کے عزیز اور برصغیر کے نامور انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی اہلیہ ایلس فیض کے بھانجے ہیں۔

سلمان تاثیر کے والد ڈاکٹر محمد دین تاثیر اس صدی کی دوسری اور تیسری دہائی کے ایک بڑے شاعر، ادیب اور دانشور تھے۔ فیض احمد فیض کے ہم زلف ایم ڈی تاثیر کواپنی جوانی میں علامہ اقبال جیسے عظیم شاعر کے قدموں میں بیٹھنے کا موقع ملا تھا۔ وہ خوش گو شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی نکتہ رس نقاد بھی تھے۔ وہ پہلے ہندوستانی تھے جنہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے انگریزی ادب کی اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کی۔

سنہ انیس سو اٹھاسی میں جب بے نظیر بھٹو پہلی باراقتدار میں آئیں تو سلمان تاثیر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور صوبے کی نواز شریف حکومت کی اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد جب نواز شریف نے وفاق کا اقتدار سنبھالا تو سلمان تاثیر حکومت مخالف پیپلز پارٹی کی لانگ مارچ میں پیش پیش رہے اور گرفتار ہوکر جیل گئے۔اس زمانے میں کہا گیا کہ انہیں جیل میں خاص طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ان کا اور نواز شریف کا تعلق تلخیوں سے بھرا ہوا ہے۔

سنہ انیس سو ترانوے میں سلمان تاثیرنے پاکستان کرکٹ بورڈ میں خزانچی کے فرائض انجام دیے اور بے نظیر بھٹو کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کے اخبار مساوات کے مالی امور کے انچارج بھی رہے۔ اکاؤنٹنسی کی اعلی تعلیم سے آراستہ سیاستدان سلمان تاثیر نے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار پر بھی خصوصی توجہ دی، آج بھی لاہور میں ان کی آڈٹ فرم اچھی ساکھ رکھتی ہے، متمول علاقوں میں ڈیپارٹمنٹل سٹورز کا سلسلہ ’پیس‘، ’ورلڈ کال‘ ٹیلی فون اور کیبل نیٹ ورک، ’ڈیلی ٹائمز‘ روزنامہ ’آج کل‘ اور ٹی وی چینل ’بزنس پلس‘ ایسے تجارتی و صحافتی ادارے ہیں جن کی کامیابی میں بڑا ہاتھ سلمان تاثیرکی انتظامی صلاحیتوں کا ہے۔

نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد بزنس پلس وہ پہلا ٹی وی چینل ہے جس کی ٹیم کی نواز شریف سے ان کے ایک انٹرویو کے معاملے پر بدمزگی ہوئی اور ٹی وی چینل کی ٹیم نے الزام عائد کیا کہ ان کی ٹیپ چھین لی گئی تھی۔نواز شریف کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور ان الزامات کو ایک سازش قرار دیا تھا۔

اس واقعہ کے کچھ عرصے بعد جب مسلم لیگ قاف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو سلمان تاثیر وفاقی نگران کابینہ کے رکن اور ان کے چینل کے ایک میزبان پنجاب کابینہ کے نگران وزیر بنے۔

ان کے مخالفین کا کہنا ہے اپنی معاملہ فہمی اور موقعہ شناسی کی صلاحیتوں کی بدولت پیپلز پارٹی سے اپنی وابستگی برقرار ر کھتے ہوئے وہ صدر پرویز مشرف کے بھی قریب ہوئے، نگران دور میں وفاقی وزیر بنے اور پھرگورنر پنجاب کے عہدے کے لیے اس طرح نامزد ہوئے کہ مسلم لیگ نون کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کی پسند ہیں یا صدر پرویز مشرف کا انتخاب۔

گورنر پنجاب نے شہباز شریف کا تختہ الٹے جانے سے صرف ایک ہفتے پہلے یہ کہہ دیا تھا کہ پنجاب میں جلد پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہونے والی ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ نون کا تختہ الٹ جانے کے بعد پیپلز پارٹی مسلم لیگ قاف اور دیگر جماعتوں کی حکومت قائم کرنے کے لیے پنجاب کےگورنر ہاؤس میں سلمان تاثیر کی موجودگی موزوں ترین ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد