BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 February, 2009, 11:48 GMT 16:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نااہلیت کے فیصلے پر صدمہ ہوا‘

صدر زرداری، سید یوسف رضا گیلانی (فائل فوٹو)
وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ گورنر راج نافذ کرنے میں ان کا مشورہ شامل ہے

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کو نا اہل قرار دینے کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سن کر انہیں صدمہ اور دکھ پہنچا۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل نے جو موقف پیش کیا اس بارے میں ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سننے کے بعد انہوں نے شہباز شریف کو فون کرکے افسوس کا اظہار کیا۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ان کی مرحومہ رہنما بینظیر بھٹو کی پالیسی تھی کہ مفاہمت کو فروغ دینا ہے اور وہ اس پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے اور میاں شہباز شریف سے ان کی ملاقات بھی اس سلسلے کی کڑی تھی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا گورنر راج نافذ کرنے جیسے اقدامات سے جمہوری عمل کو خطرہ نہیں ہوگا تو سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جب مفاہمت کی بات نہیں ہوگی تو ایسے میں غیر جمہوری قوتوں کو فائدہ پہنچے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ گورنر راج نافذ کرنے میں ان کا مشورہ شامل ہے اور یہ صدر کا اختیار ہے کہ کسی صوبے میں گورنر راج نافذ کریں۔ انہوں نے کہا دو ماہ سے زیادہ عرصہ اگر گورنر راج کو بڑھانا ہے تو پھر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظوری لینی ہوگی۔

وزیراعظم نے جب وضاحت کی کہ تاحال پنجاب اسمبلی کو معطل نہیں کیا گیا۔ جس پر ان سے سوال ہوا کہ پھر صوبائی اسمبلی کا اجلاس منعقد کرنے کیوں نہیں دیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب گورنر راج نافذ ہوتا ہے تو پھر اس کے طریقہ کار پر عمل بھی کرنا ہوتا ہے۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے مشتعل کارکنوں کو اپیل کی کہ وہ لوگوں اور ریاست کی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں کیونکہ اس سے ان کی ساکھ بھی خراب ہوگی۔

وزیراعظم سے جب پوچھا گیا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد پیپلز پارٹی کی مقبولیت کا گراف تیزی سے کم نہیں ہوا تو انہوں نے کہا کہ ’سیاست میں اس طرح کا معاملہ ڈے ٹو ڈے یعنی دن بدن کی بنیاد پر طے ہوتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ جو آج ہو وہ کل بھی ہو۔‘

نواز، شہباز’آ بیل مجھے مار‘
فیصلہ حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرے گا
چودھری شجاعت حسینقاف لیگ کے بدلے دن
پنجاب حکومت کی برطرفی اور نئے امکانات
شہباز شریفتخت پھر چھِن گیا
تیسری بار وزیرِ اعلیٰ بننا مشکل
سلمان تاثیرگورنر سلمان تاثیر
نااہلیوں کے بعد تخت لاہور کانیافرمانروا
منظور وٹو (فائل فوٹو)ایسا کب نہیں ہوا !
شریف نااہلی جیسے واقعات تاریخ میں
نواز شریفشریف نااہلیت
مدعی اور مدع الیہان دونوں ’غیر متعلق‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد