اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
| | وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ گورنر راج نافذ کرنے میں ان کا مشورہ شامل ہے |
پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کو نا اہل قرار دینے کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سن کر انہیں صدمہ اور دکھ پہنچا۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل نے جو موقف پیش کیا اس بارے میں ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سننے کے بعد انہوں نے شہباز شریف کو فون کرکے افسوس کا اظہار کیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ان کی مرحومہ رہنما بینظیر بھٹو کی پالیسی تھی کہ مفاہمت کو فروغ دینا ہے اور وہ اس پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے اور میاں شہباز شریف سے ان کی ملاقات بھی اس سلسلے کی کڑی تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا گورنر راج نافذ کرنے جیسے اقدامات سے جمہوری عمل کو خطرہ نہیں ہوگا تو سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جب مفاہمت کی بات نہیں ہوگی تو ایسے میں غیر جمہوری قوتوں کو فائدہ پہنچے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گورنر راج نافذ کرنے میں ان کا مشورہ شامل ہے اور یہ صدر کا اختیار ہے کہ کسی صوبے میں گورنر راج نافذ کریں۔ انہوں نے کہا دو ماہ سے زیادہ عرصہ اگر گورنر راج کو بڑھانا ہے تو پھر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظوری لینی ہوگی۔ وزیراعظم نے جب وضاحت کی کہ تاحال پنجاب اسمبلی کو معطل نہیں کیا گیا۔ جس پر ان سے سوال ہوا کہ پھر صوبائی اسمبلی کا اجلاس منعقد کرنے کیوں نہیں دیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب گورنر راج نافذ ہوتا ہے تو پھر اس کے طریقہ کار پر عمل بھی کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے مشتعل کارکنوں کو اپیل کی کہ وہ لوگوں اور ریاست کی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں کیونکہ اس سے ان کی ساکھ بھی خراب ہوگی۔ وزیراعظم سے جب پوچھا گیا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد پیپلز پارٹی کی مقبولیت کا گراف تیزی سے کم نہیں ہوا تو انہوں نے کہا کہ ’سیاست میں اس طرح کا معاملہ ڈے ٹو ڈے یعنی دن بدن کی بنیاد پر طے ہوتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ جو آج ہو وہ کل بھی ہو۔‘ |