قاف لیگ ایک بار پھر میدان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کی سیاست میں حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ قاف اچانک بہت اہمیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ صوبائی حکومت کی برطرفی کے بعد سابقہ اتحادی جماعتوں میں سے جو بھی مسلم لیگ قاف اتحاد کرے گی وہ ہی پنجاب کے تخت کی حقدار ٹھہرے گی۔ سیاس تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ پنجاب میں گورنر راج لگانے سے پیپلز پارٹی کو ایک نہیں کئی فائدے حاصل ہوں گے جن میں سے دو اہم ترین ہیں۔ ایک طرف پیپلز پارٹی وکلاء کے لانگ مارچ میں رکاوٹ ڈالنے کی پوزیشن میں آگئی ہے جبکہ دوسری طرف کم از کم دوماہ کے لیے لگائے گئے گورنر راج میں اسے پنجاب میں جوڑ توڑ کرنے کا موقع مل جائے گا۔ اس عرصے کے دوران وہ مرکز میں اپنی حکومت اور پنجاب میں بااختیار گورنر کی موجودگی کا فائدہ اٹھا کر گورنر ہاؤس جیسی پراثر عمارت میں دوسری جماعت کے اراکین اسمبلی سے نتیجہ خیز مذاکرات کرسکتی ہے۔ مسلم لیگ قاف کے صدر چودھری شجاعت حسین اور سابق وزیر اعلی چودھری پرویز الہی بدھ کی رات ہی اسلام آباد روانہ ہوگئے تھے اور پنجاب میں گورنر راج کے بعد یہ اطلاعات گردش کرتی رہیں کہ صدر آصف زرداری اور چودھری بردران کے درمیان ملاقات طے ہوچکی ہے۔ مقامی اخبارات میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی پچھلے ہفتے ہی گجرات میں چودھری پرویز الہی سے ایک خصوصی ملاقات کا چرچا رہا جس میں مقامی میڈیاکے بقول پنجاب میں نئے حکومتی سیٹ اپ کی جزئیات تک طے ہوگئی تھیں۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے چودھری پرویز الہی سے ایک سے زیادہ بار آن دی ریکارڈ رابطے بھی ہوچکے ہیں۔ پرویز الہی گذشتہ آٹھ برس کےدوران شریف بردران کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے رہے ہیں اور ان کے اقتدار میں آجانے کے بعد بھی ان کے مخالفانہ لہجے میں کوئی نرمی پیدا نہیں ہوئی تھی۔
ان کے مقابلے میں مسلم لیگ قاف کے صدر چودھری شجاعت حسین مسلم لیگ نون کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور وہ کہہ چکے ہیں کہ مسلم لیگوں کے اتحاد کے لیے وہ ہر فورم پر بات کرنے کو تیار ہیں۔ بدھ کو بھی جب انہیں پنجاب کی شریف حکومت کے خاتمہ کی اطلاع ملی تو انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میں خوش ہونے والی کوئی بات نہیں ہے۔‘ چودھری شجاعت حسین سے شریف بردران کی حالیہ ملاقات بھی صرف دو روز پہلے ہوئی جب دونوں بھائی باری باری ان کی والدہ کے انتقال کی تعزیت کے لیے ان کے گھرگئے۔ مسلم لیگی حلقے اسے دونوں دھڑوں کے درمیان بات چیت کے لیے ایک بریک تھرو قرار دیتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے اپنی حکومت کا تختہ الٹے جانے سے دو روز پہلے چودھری شجاعت کے گھر کا جو دورہ کیا اس دوران دونوں رہنماؤں میں ایک بند کمرے میں بھی ملاقات ہوئی تھی اور ملاقات میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ گلے شکوے اور وعدے وعید بھی ہوئے۔ بہرحال اصولوں کی سیاست کا دم بھرنے والی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے لیے اس پارٹی سے اتحاد کرنا ایک کڑوا گھونٹ ثابت ہوگا جس کے خلاف وہ آٹھ سال سے زیادہ عرصے سے جدوجہد کر رہے تھے۔ ادھر شریف حکومت کے خاتمے کے بعد پیپلز پارٹی کی یہ تشویش بھی ختم ہوگئی ہے کہ اس کی مرکزی حکومت کے خلاف لانگ مارچ اور دھرنے میں پنجاب حکومت کے وسائل استعمال ہوں گے۔ سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے سابق صدر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ پنجاب حکومت توڑی ہی اس لیے گئی ہے کہ لانگ مارچ کے راستے میں رکاوٹ ڈالی جائے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اب اگر لانگ مارچ کو روکنے کے لیے حکومتی ذرائع استعمال نہ بھی کرے تو کم ازکم مرکز مخالف لانگ مارچ اور دھرنے کو پنجاب حکومت کی حمایت اور سرکاری وسائل حاصل نہیں ہوں گے۔ | اسی بارے میں نواز شریف اور شہباز شریف نااہل25 February, 2009 | پاکستان ملک گیر ہڑتال کی اپیل، مظاہرے25 February, 2009 | پاکستان عوامی حلقے حیران ، کارکنوں کا احتجاج 25 February, 2009 | پاکستان پی ایم ایل این اور ایم کیو ایم ملاقات17 February, 2009 | پاکستان ’سترہویں ترمیم ختم کروائیں گے‘10 January, 2009 | پاکستان ’پی ایم ایل کیو میں اختلافات ختم‘23 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||