پنجاب میں گورنرراج نافذ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کی طرف سے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو نا اہل قرار دیئے جانے کے بعد صدر پاکستان نے صوبے میں دو ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شہباز شریف کا وزیرِ اعلیٰ کا عہدہ ختم ہونے کے ساتھ ہی صوبائی حکومت اور صوبائی کابینہ کا وجود بھی ختم ہو گیا ہے اور مسلم لیگ نون نے پنجاب کے بعض حصوں میں احتجاج بھی کیا ہے۔ نواز لیگ کی طرف سے جمعرات کو بھی احتجاجی کال کا اعلان کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ بدھ کی شام کو ایوان صدر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا گیا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والے فیصلے میں شریف برادران کی اہلیت کے بارے میں تمام درخواستیں مسترد کرد ی گئی ہیں۔
پندرہ یوم تک جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں تین تین ماہ کی قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر نے آئین کی شق دو سو چونتیس کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے گورنر راج نافذ کیا ہے رائے ونڈ میں نواز لیگ کے ہنگامی اجلاس کے بعد پارٹی کے قائد نواز شریف نے ایک پریس کانفرنس میں ججوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ "یہ عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک فرمان ہے جو سب کو معلوم ہے کہ کہاں سے آیا ہے۔‘
بدھ کی صبح سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے شہباز شریف کو نا اہل قرار دیتے ہوئے ان کے بطور رکنِ اسمبلی نوٹیفکشن منسوخ کر دیا جس کے بعد گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے صوبے کا انتظام سنبھال لیا۔ عدالت نے میاں شہباز شریف کو اس بنا پر نا اہل قرار دیا ہے کہ وہ عدالت کی طرف سے مجرم قرار دیئے جا چکے ہیں۔ میاں شہباز شریف خود عدالت میں پیش نہیں ہوئے ہیں لیکن ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے ان کے دفاع میں دلائل دیئے تھے۔ آئینی ماہرین کے مطابق وزیر اعلیٰ کو اعلی ترین عدالت کی طرف سے نااہل قرار دیئے جانے کے بعد انتظامی طریقہ کار کی تشریح نہیں ہے۔ آئینی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب تمام اختیارات گورنر کو منتقل ہو چکے ہیں جس کے بعد وہ یا تو اسمبلی کا اجلاس بلا کر ممبران اسمبلی کی رائےمعلوم کرکے اکثریت کی حمایت یافتہ ممبر اسمبلی کو حکومت بنانے کی دعوت دیں ۔
وفاقی حکومت کی طرف سے گورنر راج نافذ کرنے کی واضح مثالیں موجود ہیں اور آخری بار میاں نواز شریف کی سربراہی میں وفاقی حکومت نے صوبہ سندھ میں گورنر راج نافذ کیا تھا اور جسٹس ریٹائرڈ غوث علی شاہ کو عملی طور پر صوبے کے انتظامی سربراہ کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔ صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کی صورت میں صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے تمام اختیارات وفاقی پارلیمنٹ کو منتقل ہو جاتے ہیں۔ وفاقی حکومت کو گورنر راج کے نفاذ کے حکم کے ساٹھ روز کے اندر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ان کی منظوری لینا ضروری ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ صوبے میں گورنر راج کی توسیع بھی کر سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ گورنر اسمبلی کو تحلیل کر سکتے ہیں جس کے بعد دوبارہ انتخابات ہونے ضروری ہیں۔ قانونی ماہر ڈاکٹر فاروق حسن کا خیال ہے آئین کے آرٹیکل 130 کے تحت گورنرکو انتظامی اختیارات مل چکے ہیں۔ اور اب صرف دو راستے موجود ہیں۔ ڈاکٹر فاروق حسن کے مطابق یا تو گورنر اسمبلی کا اجلاس بلا کر اکثریت کی حمایت رکھنے والے شخص کو حکومت بنانے کی دعوت دیں یا پھر گورنر راج نافذ کر دیا جائے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اسمبلی کا اجلاس بلانا گورنر کی صوابدید میں ہے اور آئین میں اس کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیاگیا ہے۔ | اسی بارے میں نااہلی کےبعد ہنگامی اجلاس طلب25 February, 2009 | پاکستان عوامی حلقے حیران ، کارکنوں کا احتجاج 25 February, 2009 | پاکستان آئین کے تحت تیسری بار وزیرِ اعلٰی نہیں25 February, 2009 | پاکستان نواز شریف اور شہباز شریف نااہل25 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||