آئین کے تحت تیسری بار وزیرِ اعلٰی نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ ماہ کی وزارت عالیہ کے بعد سپریم کورٹ سے نا اہل قرار دیے پر مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف ایک بار پھر پنجاب میں اقتدار سے محروم ہوگئے ہیں۔ اور آئینِ پاکستان کے تحت کوئی بھی شخص دو بار سے زیادہ وزیر اعلٰی نہیں بن سکتا۔یہ آئینی ترمیم سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کےدور میں کی گئی تھی اور یہ آج بھی آئین کا حصہ ہے۔ شہباز شریف نے جون دوہزار آٹھ کو ایسے حالات میں حلف اٹھایا تھا جب پنجاب میں ان کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے محاذ آرائی کا آغاز ہوچکا تھا۔انہوں نے اپنے قابل اعتماد چیف سیکرٹری کے بل بوتے ہر اپنے احکامات چلانے شروع کیے لیکن اتحادی جماعت کے گلے شکوے ان کے پاؤں کی بیڑیاں بنی رہیں۔ دوسری بڑی رکاوٹ پنجاب کے پچیس سے زائد اضلاع کے وہ ناظمین تھے جن کی اپوزیشن مسلم لیگ قاف سے وابستگی پہلے سے آشکار تھی۔ نتیجے کے طور پر وہ مخصوص تندوروں پر دو روپے کی روٹی مہیا کرنے کے سوا کوئی بڑا قابل ذکر کام نہیں کرسکے۔گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے ان پر فقرہ کسا کہ پنجاب حکومت کو ایک سو ساٹھ ارب کا بجٹ ملا اور وہ بیس ارب ہی خرچ کر پائی۔ گورنر پنجاب اور پیپلز پارٹی کے صوبائی رہنماؤں نے ان کے آٹھ مہینوں کے دوران انہیں کئی بار اپوزیشن بنچوں کی راہ دکھانے کی دھمکی دی۔
مسلم لیگ نون اپوزیشن کی سیاسی جماعت مسلم لیگ قاف کو ساتھ ملا کر اپنی حکومت بحال رکھ سکتی تھی لیکن چودھری بردران سے نواز شریف کی ناراضگی اس راستے میں حائل رہی۔چودھری شجاعت کی والدہ کے انتقال پر نواز شریف تعزیت کرنے گئے تو شہباز شریف کو بھی رابطے بحال کرنے کا موقع ملا۔ مبصرین کے مطابق یہ ملاقات پنجاب کے سیاسی بحران کے ان دنوں میں مسلم لیگ نون کے لیے بہت سود مند ثابت ہوسکتی ہے۔ اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے توسط سے حکمرانی میں آنے والے میاں شہباز شریف نے میدان سیاست میں قدم رکھنے کے بعد بہت سے اتر چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ سنہ انیس سو پچاس میں لاہور میں پیدا ہونے والے شہباز شریف نے اسی شہر سے گریجویشن کی اور اپنے والد میاں شریف کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانے لگے۔ ان کے بڑے بھائی نواز شریف نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا تو وہ ان کے سب سے قریبی ساتھی ٹھہرے۔ سنہ انیس سو اٹھاسی میں جب نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلی بنے تو شہباز شریف لاہور چمبر آف کامرس کے صدر منتخب ہوگئے۔ نواز شریف پہلی بار وزیر اعظم بنے تو شہباز شریف پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ پہلی شریف حکومت کی برطرفی کے بعد نواز شریف قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف منتخب ہوئے تو چھوٹے بھائی شہباز شریف نے پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ سنبھالا۔ نواز شریف دوسری بار دو تہائی اکثریت لیکر وزیر اعظم بنے تو شہباز شریف نے پنجاب کی وزارت اعلی سنبھالی۔ یہ وہ دور تھا جب نواز شریف شادیوں میں کھانے پر پابندی اور ہندوستان سے بہتر تعلقات اور ایٹمی دھماکوں جیسے تاریخی فیصلے کررہے تھے۔ بارہ اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے کو جب اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم میاں نوازشریف کا تختہ الٹا توپنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کو فوج نےگرفتار کر لیا۔ بعد میں وہ جلاوطن کردیئے گئے اور سنہ دوہزار دو کے انتخابات میں حصہ نہ لے سکے۔
شہباز شریف کی ازدواجی زندگی بھی پاکستانی میڈیا میں موضوع بحث رہی اور خاندانی شادی کے علاوہ عالیہ ہنی اور تہمینہ درانی سے بیاہ کے قصے اخبارات کی زینت بنتے رہے۔ اپنے والد میاں شریف کے انتہائی تابع فرماں سمجھے جانے والے شہباز شریف کے یہ ایسے فیصلے تھے جنہیں میڈیا میں ان کے والد کے احکامات کی خلاف ورزی کے طور پر پیش کیاگیا۔ ان کی جلاوطنی کے دوران ان پر پانچ نوجوانوں کے جعلی مقابلے میں ہلاکت کے احکامات جاری کرنے کا مقدمہ درج ہوا جو ان کی واپسی کے بعد ختم ہوگیا۔ جلا وطنی کے آٹھ برس کےدوران میڈیا میں ان کے اور صدر مشرف کے درمیان بالواسطہ رابطوں کی خبریں بھی آئیں اور شہباز شریف نے ایک بار پاکستان لوٹنے کی کوشش بھی کی لیکن انہیں زبردستی واپس بھجوادیاگیا۔ نواز شریف نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ان کی واپسی کی اس کوشش میں نواز شریف کی رضامندی شامل نہیں تھی۔ اٹھارہ فرروی کے عام انتخابات میں جب نواز شریف کو وطن واپسی کی اجازت ملی تو شہباز شریف بھی واپس آسکے لیکن اٹھارہ فروری دوہزار آٹھ کے انتخابات میں ان کے کاغذات مسترد کردیئے گئے۔ لیکن ان انتخابات میں ان کی پارٹی ملک کی دوسری بڑی اور صوبے کی سب سے بڑی اکثریتی جماعت بن کر ابھری، اس کے بعد ضمنی انتخابات کے لیے ان کے کاغذات نہ صرف منظور ہوئے بلکہ اپنے ساتھیوں کی کوششوں سے وہ بلامقابلہ صوبائی اسمبلی کے رکن بن گئے جہاں دوست محمد کھوسہ پہلے ہی ان کے انتظار میں مستعفی ہونے کے لیے تیار بیٹھےتھے۔ | اسی بارے میں انتقام کی سیاست نہیں ہوگی: شہباز08 June, 2008 | پاکستان شہباز: نو سال بعد پِھر وزیراعلٰی بن گئے08 June, 2008 | پاکستان شہباز کی اتوار کو حلف برداری06 June, 2008 | پاکستان شہباز کا حلف، کھوسہ مستعفی06 June, 2008 | پاکستان شہباز منتخب: نوٹیفیکیشن جاری03 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||