پی ایم ایل این اور ایم کیو ایم ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور صوبہ سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کے درمیان پیر کو ہونے والی ملاقات کو پاکستانی ذرائع ابلاغ نے نمایاں طور پر نشر اور شائع کیا ہے۔ مسلم لیگ نون اور متحدہ قومی موومنٹ کے مابین پچھلے دس سالوں سے جاری سخت کشیدگی کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان یہ پہلا رابطہ ہے۔ 1990ء اور پھر 1997ء کے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی مسلم لیگ نون کی حکومتوں میں متحدہ قومی موومنٹ اسکی حلیف تھی لیکن دونوں مرتبہ ہی یہ اتحاد دو سال سے بھی کم عرصے میں ٹوٹ گیا اور ہر بار اس اتحاد کے خاتمے پر ایم کیو ایم کے خلاف نیا آپریشن شروع ہوا۔ اکتوبر 1998ء میں جب معروف طبیب اور سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کو قتل کیا گیا تو وزیر اعظم نواز شریف نے اس کا الزام ایم کیو ایم پر لگایا تھا اور اسے قاتلوں کو حوالے کرنے کے لیے تین دن کا الٹی میٹم دیا تھا۔ مگر ایم کیو ایم نے نہ صرف اس الزام کو یکسر مسترد کیا تھا بلکہ اقتدار بھی چھوڑ دیا تھا۔ نتیجہ ایم کیو ایم کے خلاف ایک اور آپریشن کی صورت میں سامنے آیا جو نوے کے عشرے میں اسکے خلاف ہونے والا تیسرا ریاستی آپریشن تھا۔ کراچی میں بارہ مئی آیا اور معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی آمد پر شہر میں سیاسی کارکنوں اور عام لوگوں پر مسلح حملوں کے نتیجے میں چالیس سے زائد لوگ مارے گئے اور کئی ایک زخمی ہوئے، اس کا الزام بھی ایم کیو ایم پر لگایا گیا اور مسلم لیگ نون کی قیادت نے لندن میں کل جماعتی کانفرنس بلائی میں دوسری کئی قراردادوں کے ساتھ ساتھ یہ قرار داد بھی منظور کرائی تھی کہ آئندہ مسلم لیگ نون اور اس کی کوئی ہم خیال جماعت متحدہ قومی موومنٹ سے رابطہ نہیں رکھےگی۔ ایک صحافی نے جب پیر کوگورنر ہاؤس میں مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف کو یہی بات یاد دلائی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ قرارداد اب غیر موثر ہوگئی ہے اور ملک کو درپیش سیاسی اور اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ملک کو اس وقت اتحاد کی ضرورت ہے۔ لیکن کیا بات صرف یہی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ نون کی اس پیش قدمی کے پیچھے اس کے اپنے سیاسی مفادات کارفرما ہیں۔ مسلم لیگ نون اٹھارہ فروری کے انتخابات میں سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں میں ایک بھی نشست حاصل نہیں کرپائی تھی۔
تجزیہ کار اور وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سربراہ پروفیسر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ وہ اب صرف صوبہ پنجاب تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اور اس سے اس کا سیاسی کردار کم ہوگیا ہے اسی لئے اپنے دائرے کو بڑھانے کے لئے مسلم لیگ نون کی قیادت نے ایم کیو ایم سے رابطہ کیا ہے۔ توصیف احمد کا کہنا ہے کہ ’مسلم لیگ نون کے رویے میں ایک اور تبدیلی آئی ہے کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے لیے وکلا کے لانگ مارچ کے بارے میں بھی اس نے پہلی بار اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے جو ان کے ایک دوسری سمت چلنے کا پتہ دیتی ہے اور ایم کیو ایم سے رابطہ بھی ان کی اسی کوشش کا حصہ لگتا ہے‘۔ انگریزی اخبار دی نیشن کے ایڈیٹر اور تجزیہ کار عارف نظامی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے انہیں بتایا کہ ڈاکٹر عشرت العباد نے انہیں چائے کی دعوت پر مدعو کیا تھا جس کے دوران ملکی امور پر بھی بات ہوئی اور یہ بھی بات ہوئی کہ ملک کو جن چیلنجوں کا سامنا ہے ان کا مل کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ لیکن وہ اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ یہ ملاقات صرف چائے کی دعوت تک محدود تھی۔ ان کے بقول دونوں جماعتوں کے مابین کئی سالوں بعد اس رابطے کی وجہ ملک کے موجودہ معروضی حالات بھی ہوسکتے ہیں۔ ’اس وقت پنجاب حکومت کو سلمان تاثیر کا سامنا ہے جبکہ وفاقی سطح پر بھی کچھ عجیب سی صورتحال ہے اور یہ تاثر مل رہا ہے کہ وزیر اعظم گیلانی کو تبدیل کیا جاسکتا ہے تو ایم کیو ایم جو مرکز میں پیپلز پارٹی کی اتحادی ہے مستقبل میں اسکا کردار اہم ہوگا‘۔ پچھلے سال اٹھارہ فروری کے انتخابات سے پہلے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم لگ بھگ دو دہائیوں تک ایک دوسرے کی سخت حریف رہی ہیں۔ | اسی بارے میں سلیم شہزاد رکنیت سے برخاست14 February, 2009 | پاکستان ’سندھ میں سینیٹر بلامقابلہ منتخب‘13 February, 2009 | پاکستان ایم کیو ایم ترمیمی بل ایوان میں27 January, 2009 | پاکستان پی پی، ایم کیو ایم کا اتفاق رائے26 January, 2009 | پاکستان کراچی، عدالتی تحقیقات کا فیصلہ08 December, 2008 | پاکستان ہنگامے: ’متحدہ، اے این پی ملوث نہیں‘03 December, 2008 | پاکستان کراچی، غریب، معصوم نشانے پر02 December, 2008 | پاکستان اسمبلی:مسلم لیگ نون کا واک آؤٹ19 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||