ہنگامے: ’متحدہ، اے این پی ملوث نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں بدھ کو صوبہ سندھ کی کابینہ کے امن و امان کے حوالے سے اجلاس میں اتفاقِ رائے پایا گیا کہ کراچی میں ہونے والی حالیہ ہنگامہ آرائی میں متحدہ قومی مومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیرِ اطلاعات شازیہ مری نے کہا کہ حالیہ ہنگامہ آرائی میں ’جرائم پیشہ عناصر‘ ملوث تھے جنہوں نے شہر کے امن کو تباہ کرنے کو کوشش کی۔ تاہم انہوں نے جرائم پیشہ افراد کے بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے احتراز کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت کے اتحایوں میں سے کوئی بھی ان ہنگامہ آرائی کے واقعات میں ملوث نہیں ہے بلکہ یہ وہ سازشی عناصر ہیں جو شہر کا امن برباد کرنے کے درپے ہیں اور ایسے افراد سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں یہ محسوس کیا گیا کہ ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کے لیے پولیس کو جتنا منظم ہونا چاہیے تھا وہ اتنی منظم نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہر انتخابی حلقے میں امن کمیٹیاں بنائی جائیں گی اور اگر کسی علاقے میں امن و امان خراب ہوتا ہے تو حکومت کے ساتھ ساتھ اس حلقے کے نمائندے کی زیادہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنے علاقے میں امن کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی طرح امن کمیٹیوں کو پوری طرح بحال کیا جائے گا۔ زمینوں پر قبضے اور تجاوزات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی تجاوزات کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسے افراد جن کے خلاف تجاوزات کے سلسلے میں مقدمات ہیں انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بابت قانون کو مزید سخت بنایا جارہا ہے تاکہ تجاوزات کرنے والوں کے خلاف کرمنل ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جاسکے۔ کابینہ کا اجلاس غیر معمولی طور پر طول پکڑ گیا تھا اور کابینہ کے اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں چار بجے منعقد کی جانے والی بریفنگ تین گھنٹے تاخیر کے بعد شروع ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امن وامان کے بارے میں کیے جانے والے فیصلوں میں حکمران اور اس کی حلیف جماعتوں میں اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے جسے اعلٰی قیادت کی مداخلت کے بعد ہی ختم کیا جاسکا۔ شازیہ مری نے کہا کہ پولیس آرڈر 2002 کا نفاذ گذشتہ حکومت نے کیا تھا لیکن اس کے عملی نفاذ کے بعد وہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے ہیں جن کی توقع کی جارہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت اور اس کی حلیف جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ پولیس آرڈر کو ختم کیا جانا چاہیے بشرطیکہ تمام جماعتوں کی اعلٰی قیادت اس تجویز سے متفق ہو۔ ان کے بقول ہر شہری کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت کی ہے لہٰذا اسلحہ لے کر چلنے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی جبکہ اسلحہ کے لیے جاری کیے گئے لائسنسوں کی تصدیق کی جائے گی اور اس میں سیاسی مداخلت کی بھی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈی سی او یعنی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفسر کے پاس اسلحہ لائسنس جاری کرنے کے اختیارات کو واپس لینے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ پولیس میں بھرتیوں کے حوالے سے صوبائی وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ پولیس میں بھرتیاں صرف اور صرف میرٹ پر کی جائیں گی اور کسی بھی قسم کے دباؤ یا سفارش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں کراچی میں ایدھی کی امن ریلی03 December, 2008 | پاکستان کراچی، ٹرانسپورٹ کم لوگ پریشان02 December, 2008 | پاکستان کراچی، مرنے والوں کی تعداد بتیس02 December, 2008 | پاکستان کراچی تشدد جاری، ہلاکتیں چوبیس01 December, 2008 | پاکستان ’دیکھتے ہی گولی مار دینے، علاج نہیں ہے‘ 01 December, 2008 | پاکستان کراچی: مزید چھ افراد ہلاک30 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||