’دیکھتے ہی گولی مار دینے، علاج نہیں ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے کراچی میں جاری تشدد پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دیکھتے ہی گولی مار دینے‘ کا حکم تشدد کی اصل وجوہ کا علاج نہیں ہے بلکہ کراچی کو اسلحے سے پاک کرکے تشدد کا اسباب کو دور کیا جائے۔ کمیشن کے معاون چئر پرسن اقبال حیدر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کراچی میں گزشتہ دنوں بلا امتیاز تشدد اور جان و مال کا نقصان حقیقی خطرے کی علامت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں حکومتی اداروں کے علاوہ شہریوں نے جس بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے وہ نہایت افسوسناک ہے۔ ان کے بقول حساس علاقوں میں نیم فوجی دستوں کی تعیناتی سے صورت حال کو کنٹرول کرنا وقت کی ضرورت ہے لیکن کہ ’دیکھتے ہی گولی مار دینے‘ کے احکام تشدد کی اصل وجوہات کا علاج نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شہر کو اسلحے سے حقیقی اور غیر متعصبانہ طریقے سے پاک کرے اور بقول ان کے حکومت اس مقصد کے حصول میں اسی صورت میں کامیاب ہوسکتی ہے اگر وہ تمام شہریوں پر اپنی اس صلاحیت کو ثابت کرے کہ وہ سب بلا امتیاز تحفظ فراہم کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ سید اقبال حیدر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبانائزیشن نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک کے لیے خطرہ ہے لیکن اس کی وجہ سے گروہی اور لسانی تشدد کو ہوا دینے کا کوئی جواز نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا دستور ہر شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی آزاد مرضی سے ملک کے کسی بھی حصے میں رہائش اختیار کرسکے اور اس حق پر کوئی مصالحت نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر من پسند افراد یا گروہوں کے انتخاب سے اجتناب نہ کیا گیا تو نتائج انتہائی تباہ کن ہونگے۔ | اسی بارے میں جرگہ نظام جلد ختم ہو جائیگا: مرزا19 November, 2008 | پاکستان جامعہ کراچی میں چار ہلاک26 August, 2008 | پاکستان کراچی دھماکے: دو ہلاک، کئی زخمی07 July, 2008 | پاکستان اپریل میں 11 ارکان کا قتل:فاروق ستار20 April, 2008 | پاکستان سیاسی جماعتوں کا رد عمل10 April, 2008 | پاکستان خفیہ اہلکاروں کا قتل، تفتیش شروع28 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||