جرگہ نظام جلد ختم ہو جائیگا: مرزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار علی مرزا نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے صوبے میں رائج قبائلی جرگوں کے نظام کے خلاف اقدامات شروع کر دیے ہیں اور جلد ہی اسے ختم کردیا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو سندھ اسمبلی کی عمارت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ قبائلی جرگوں کا نظام بالائی سندھ کے علاقے میں برسوں سے رائج ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق کاروکاری یا غیرت کے نام پر ہونے والے قتل اور دشمنیاں ختم کرانے کے لیے بچوں کی جبری شادیوں کا بڑا سبب ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے چوبیس اپریل سنہ دو ہزار چار کو اپنے ایک فیصلے میں جرگہ سسٹم کو غیرقانونی متوازی عدالتی نظام قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کردی تھی اور حکم دیا تھا کہ اس میں ملوث افراد کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے خواہ وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔ اس فیصلے پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔ اس بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ذوالفقار علی مرزا نے کہا کہ ’میں جرگہ سسٹم کے خلاف ہوں اور پہلا مثبت قدم جو میں نے جرگوں کے خلاف لیا ہے وہ یہ ہے کہ میں نے پولیس اور انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ جرگوں کے انعقاد میں کسی طرح کا تعاون نہ کریں‘۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جو جرگے ہوتے تھے اس میں نہ صرف پولیس کے افسران شریک ہوتے تھے بلکہ ان کے بقول خودساختہ قبائلی سرداروں اور ان کے مسلح ساتھیوں کو پولیس اپنے تحفظ میں جرگوں کے مقام پر لاتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت میڈیا دکھاتا تھا کہ ایس پی بیٹھا ہے۔ آئی جی بیٹھا ہے، پولیس بیٹھی ہے اور ان کے تحفظ میں وہ جرگے کر رہے ہیں اور خونوں کے سودے کر رہے ہیں۔ میں نے اسے روک دیا ہے اور سخت ہدایات دی ہیں اس سلسلے میں پولیس کو‘۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ جرگوں کو روکنے کے لیے قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے اور اس پر صوبائی وزارت قانون غور کررہی ہے لیکن ہم انشاء اللہ اس نظام کو بہت جلد ختم کردیں گے۔
پیپلز پارٹی کی حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے ساتھ پچھلے ہفتے لندن میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں صوبائی وزیر نے کہا کہ الطاف حسین نے اپنے ان خدشات کے ثبوت کے طور پر کہ کراچی میں شدت پسند عناصر آرہے ہیں، کچھ دستاویزات فراہم کی ہیں جن پر تحقیقات کر رہے ہیں تاہم اب تک ایسے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں جن کی بنیاد پر کسی خاص علاقے میں ایسے عناصر کی موجودگی ثابت ہوتی ہو۔ ’میں کراچی اور سندھ کے عوام کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اگر ہمیں طالبنائزیشن کے کوئی بھی ثبوت ملتے ہیں تو ان پر سنجیدگی سے غور ہوگا لیکن فی الحال اس حوالے سے ذرہ برابر بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘۔ واضح رہے کہ پیپلز پارٹی اور اس کی حلیف جماعت متحدہ قومی موومٹ کے مابین حالیہ ہفتوں میں بعض وفاقی اور صوبائی معاملات پر اختلافات سامنے آئے تھے جس کے بعد صدر مملکت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے پیر مظہر الحق اور ذوالفقار علی مرزا کو الطاف حسین سے مذاکرات کے لیے پچھلے ہفتے لندن بھیجا تھا۔ دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات بنیادی طور پر کراچی میں مبینہ طور پر طالبان نما عناصر کی آمد کے بارے میں ایم کیو ایم کی شکایت، وفاقی کابینہ میں ایم کیو ایم کی شمولیت، جنرل مشرف کے متعارف کرائے گئے ضلعی حکومتوں کے نظام میں اصلاحات اور سرکاری نوکریوں میں کوٹے جیسے معاملات پر سامنے آئے۔ ذوالفقار علی مرزا کے ساتھ اخباری کانفرنس میں موجود پیر مظہر الحق نے کہا کہ الطاف حسین سے بات چیت بڑی مفید رہی اور اس سے دونوں جماعتوں میں ہم آہنگی پیدا ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے دونوں جماعتوں کے درمیان پائے جانے والے دوسرے اختلافی معاملات پر بات نہیں کی۔ | اسی بارے میں کراچی میں طالبان کا خوف10 September, 2008 | پاکستان سندھ حکومت میں پھر اختلافات06 August, 2008 | پاکستان طالبان، حکومت اقدامات کرے05 August, 2008 | پاکستان سندھ میں پیپلز پارٹی کو پہلا چیلنج20 April, 2008 | پاکستان سندھ میں ایک ماہ میں بہتری:وزیر16 April, 2008 | پاکستان اجتماعی زیادتی، سندھ میں احتجاج 08 February, 2007 | پاکستان صنم کا خاندان عدم تحفظ کا شکار29 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||