BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 December, 2006, 09:36 GMT 14:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صنم کا خاندان عدم تحفظ کا شکار

صنم اپنے بھائی امام بخش کےساتھ
صنم اپنے بھائی امام بخش کےساتھ
صوبہ سندھ کے علاقے ٹنڈو آدم میں ایک جرگے کی جانب سے پانچ سالہ بچی اور چار سالہ بچے کے نکاح کے فیصلے کے بعد صنم نامی اس بچی والدین عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں اور اپنا گھر چھوڑ کر کراچی پہنچ گئے ہیں۔

جرگے نے اپنے فیصلے میں نکاح کے لیے عید کا دوسرا روز مقرر کیا ہے۔

بچی کے بھائی امام بخش بگھیو نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بہن کوساتھ لے کر کراچی آگئے تھےاور اب میڈیا میں اس جرگے کے بارے میں تفصیلات آنے کے بعد گھر والے عدم تحفظ کا شکار ہیں اور اس لیے وہ سب بھی کراچی آگئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اب وہ واپس ٹنڈو آدم نہیں جاسکتے کیونکہ وڈیرے ان کو کبھی معاف نہیں کریں گے اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب کراچی میں ہی رہیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ اس فیصلے پر عمل کریں اور خاموش رہیں۔ سانگھڑ کی ضلع پولیس افسر نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے اور فریقین کو بیانات قلمبند کرنے کے لیے طلب کرلیا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ اب وہ واپس ٹنڈو آدم نہیں جاسکتے کیونکہ وڈیرے ان کو کبھی معاف نہیں کریں گے اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب کراچی میں ہی رہیں گے

امام بخش کا کہنا ہے کہ اگر پولیس انہیں تحفظ کی یقین دہانی کروائے تو وہ بیان دینے جا سکتے ہیں کیونکہ’پولیس بھی وڈیروں کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔‘

امام بخش بگھیو نے بتایا تھا کہ انیس سو پچانوے میں ان کی ماسٹر پنھل کی بیٹی عائشہ سے شادی ہوئی تھی اس کے بدلے میں ان کی بہن کا رشتہ ماسٹر پنھل کے بیٹے عابد علی کو دیا گیا تھا۔ آگے چل کر عابد علی نے ان کی بہن سے یہ کہہ کر شادی کرنے سے انکار کردیا کہ لڑکی کا رنگ سانولا ہے اور وہ اسے پسند نہیں کرتے اس پر انہوں نے اپنی بہن کی شادی کسی اور جگہ طے کردی۔

امام بخش کے مطابق ان کی بہن کے نکاح کے وقت ماسٹر پنھل پولیس لے کر پہنچ گئے اور دعویٰ کیا کہ لڑکی کا نکاح پہلے ہوچکا ہے اور پولیس انہیں گرفتار کر کے لےگئی۔

امام بخش نے تحریر شدہ فیصلے کی نقل بھی دکھائی جس میں کہا گیا ہے کہ دھنی بخش اور محمد پنھل کا فیصلہ وڈیرے محمد خان جونیجو اور مفتی امان اللہ بروہی کے روبرو طے پایا ہے، محمد پنھل کے بیٹے عابد علی کو دھنی بخش (امام بخش کے والد) نے اپنی بیٹی کا رشتہ دیا تھا جو اس نے ٹھکرا دیا تھا ۔ اس کے بدلے میں دھنی بحش اپنی چھوٹی بیٹی گل صنم جس کی عمر تین سال ہوگی، وہ محمد پنھل کے بیٹے ماجد علی کو دے گا۔

تحریری فیصلے کے مطابق فیصلہ دونوں فریقین نے خوشی سے قبول کیا لیکن امام بخش کا کہنا ہے کہ انہوں نے دباؤ میں آکر اس فیصلے پر دستخط کیے تھے مگر وہ بار بار وڈیرے سے کہتے رہے کہ یہ فیصلہ نہ کیا جائے کیونکہ وہ ساری زندگی اپنی بہن کی آنکھوں میں شرمندہ ہوتے رہیں گے۔

دوسری جانب بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد خان جونیجو نے اس فیصلے کو درست قرار دیا تھا اور کہا کہ انہوں نے کوئی زبردستی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں
صلح کے لیے کم سن بچوں کا نکاح
28 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد