BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 March, 2008, 14:22 GMT 19:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خفیہ اہلکاروں کا قتل، تفتیش شروع

فائل فوٹو
کراچی میں’ٹارگٹ کلنگ‘ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے
پولیس اور حساس اداروں نے کراچی میں ہلاک ہونے والے حساس ادارے کے دو افسران کے قتل کی تفتیش شروع کر دی ہے اور اس واردات کے پیچھے کالعدم تنظیموں کا ہاتھ ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

انسپکٹر ابراہیم اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر فضل الرحمان کو جمعرات کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔تفتیشی ادارے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے سرکاری افسران کو نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کی دھمکیاں بھی مل رہیں تھیں۔

ذرائع کے مطابق ابراہیم اور فضل الرحمان آئی بی کے انسدادِ دہشت گردی کے خصوصی ونگ اے ٹی ایس کے ساتھ منسلک تھے جنہوں نے نہ صرف کراچی بلکہ کوئٹہ سے بھی بعض اہم افراد کوگرفتار کیا تھا اور حکومت کی جانب سے اُنہیں انعامی رقم بھی دی گئی تھی تاہم کچھ عرصہ قبل اُن کا تبادلہ ہیڈ آفس میں کردیا گیا تھا۔

ڈی آئی جی ساؤتھ زون جاوید بخاری کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے حساس ادارے کے افسران اُس ٹیم کا حصہ تھے جس نے کراچی میں تین بڑی تخریبی کارروائیوں کا سراغ لگایا جن میں دو برس قبل عید میلاد النبی کے موقع پر نشتر پارک میں ہونے والا بم دھماکہ بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ اس واقعہ میں سُنی تحریک کی لیڈرشپ سمیت ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جاوید بخاری کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے سرکاری افسران نے امریکی سفارتخانے کے قریب دو مارچ دو ہزار چھ کو خودکش دھماکے میں سفارتکار ڈیوڈ فوائے سمیت چار افراد کے قتل اور اس ہی برس جولائی میں شیعہ عالمِ دین علامہ حسن ترابی کو خودکش حملے میں ہلاک کرنے کے واقعات کی تفتیش بھی کی تھی اور مبینہ ملزمان کا سراغ لگایا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ بظاہر اس واقعہ میں کوئی ایسا ہی گروپ ملوث نظر آتا ہے جس کے اراکین کو ان افسران نےگرفتار کیا ہو۔ پولیس نے تاحال حساس ادارے کے افسران کے قتل کا مقدمہ درج نہیں کیا ہے، جس کی تاخیر کی وجہ پریڈی پولیس نے مقتولین کے ورثاء کی غیر موجودگی بتائی ہے۔

ادھر انٹیلیجنس بیورو کے انسپکٹر ابراہیم کو جمعہ کو کراچی کے میوہ شاہ قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا جبکہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر فضل الرحمان کی میت اُن کے آبائی شہر دادو پہنچا دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ جس وقت حساس اداروں کے افسران کو قتل کیا گیا اُس وقت امریکہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ رچرڈ باؤچر، امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان نیگروپونٹے اور امریکی قونصلیٹ کے دیگر اہلکار کراچی میں ہی موجود تھے۔ امریکی حکام کے اس دورے کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی پاکستان کو تعاون کی یقین دہانی کرانا تھا۔

اسی بارے میں
حساس ادارے کے افسران قتل
27 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد