BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 November, 2008, 16:27 GMT 21:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: مزید چھ افراد ہلاک

کراچی
بنارس کالونی اور پیرآباد میں تین گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کردیا گیا
کراچی میں اتوار کی رات کو فائرنگ کے واقعات میں مزید چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور دو دنوں میں مرنے والوں کی تعداد اکیس تک پہنچ چکی ہے۔

ہنگامہ آرائی سنیچر کی شام بنارس کالونی اور اس سے ملحقہ علاقے اورنگی ٹاؤن سے شروع ہوئی تھی جس کے بعد کئی دیگر علاقے بھی اس کی لپیٹ میں آگئے تھے۔

عیدالاضحٰی کی آمد کے موقع پر سہراب گوٹھ سے تقریباً پندرہ کلو میٹر دور شہر سے باہر سپرہائی وے پر مویشی منڈی لگائی جاتی ہے جہاں سے شہری اپنی پسند کے قربانی کے جانور خرید کر لاتے ہیں۔ اتوار کی رات کو قربانی کے جانور لانے والوں پر شرپسندوں نے دھاوا بول دیا اور ان سے لوٹ مار کرتے ہوئے نقدی اور دیگر اشیاء اسلحہ کے زور پر چھین لیں۔

دو ہفتوں میں چھتیس ہلاک
 کراچی کے بعض علاقے جن میں سہراب گوٹھ، بنارس کالونی، اورنگی ٹاؤن، پیرآباد، ملیر، اور قائدآباد شامل ہیں پچھلے چند ہفتوں سے پرتشدد کارروائیوں کی لپیٹ میں ہیں اور نامعلوم افراد کی فائرنگ سے گزشتہ دوہفتوں کے دوران پندرہ جبکہ سنیچر کی شام سے اتوار کی صبح کے دوران مزید اکیس افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں

پولیس حکام کے مطابق اسی دوران شرپسندوں نے خوف و ہراس پھیلانے کے لئے فائرنگ بھی کی جس کی زد میں آکر دو افراد ہلاک ہوگئے۔ دوسری جانب اورنگی ٹاؤن میں زخمی ہونے والوں میں سے دو افراد ہسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ گئے جبکہ دو افراد کو نامعلوم افراد نے کھوکھراپار، ملیر کے علاقے میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔

محکمہ داخلہ نے شہر میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر تین روز کے لیئے پابندی عائد کردی ہے، اعلامیے کے مطابق بچے ، خواتین اور عمر رسیدہ افراد اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
دوسری جانب سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کےمطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کراچی کی صورتحال کا نوٹیس لیا ہے اور چوبیس گھنٹے کے اندر رپورٹ طلب کرلی ہے۔
وزیراعظم نے صوبائی حکومت کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ شرپسندوں سے سختی سے نمٹا جائے کسی کو بھی عوام کی جان اور مال کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

فائرنگ اور ہنگامہ آرائی کی خبریں مختلف ٹی وی چینلوں پر متواتر آرہی ہیں جبکہ مرنے والوں کی تعداد میں بھی تضاد پایا جاتا ہے۔ بعض ٹی وی چینل ہلاک ہونے والوں کی تعداد بیس تو بعض پچیس تک بتا رہے ہیں۔ شہری انتظامیہ نے امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر سرکاری اور نجی اسکولوں کو پیر کے روز بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

اتوار کو ہفتہ وار تعطیل ہوتی ہے لیکن فائرنگ اور ہنگامہ آرائی کے بارے اطلاعات کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کی تعداد میں کافی حد تک کمی دیکھی گئی تو دوسری جانب بسوں اور منی بسوں کی تعداد بھی بہت کم رہی۔

بیشتر پٹرول پمپس بھی بند رہے، جبکہ زیادہ تر لوگوں نے شہر میں خوف اور دہشت کی فضاء کی وجہ سے اپنے گھروں پر رہنے کو ہی ترجیح دی اور تفریحی مقامات پر اتوار ہونے کے باوجود لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہی۔

کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد نے کہا ہے کہ ہنگامہ آرائی کے دوران اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ستر دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے بقول پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری کو متاثرہ علاقوں میں تعینات کردیا گیا ہے جہاں وہ شرپسند عناصر پر کڑی نطر رکھے ہوئے ہیں۔

ان کے بقول ہنگامہ آرائی اور فائرنگ میں ملوث ایک سو افراد کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے افراد سے تفتیش کی جارہی ہے تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ ہنگامہ کرنے والوں کا تعلق کس گروہ یا جماعت سے ہے۔

اسی بارے میں
جامعہ کراچی میں چار ہلاک
26 August, 2008 | پاکستان
سیاسی جماعتوں کا رد عمل
10 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد