کراچی میں ایدھی کی امن ریلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی شہر کے بعض علاقوں میں سنیچر کو ہونے والے فسادات کے بعد اب زندگی معمول پر آ رہی ہے۔ تعلیمی ادارے دو روز تک بند رہنے کے بعد آج کھل گئے ہیں اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ بھی دو روز کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ نامور سماجی کارکن عبدالستار ایدھی نے ان فسادات کے خلاف شہریوں میں یکجہتی کے لیے امن اور بھائی چارہ ریلی نکالی ہے۔ ایک ایمبولینس، دس خواتین رضاکار ، چھوٹے بیٹے فیصل ایدھی اور پی ایم اے کے رہنما ڈاکٹر شیر شاہ کے ہمراہ مولانا عبدالستار ایدھی نے وہیل چیئر پر صبح ساڑہ سات بجے اس ریلی کا آغاز کیا جو ایم اے جناح روڈ سے ہوتی ہوئی، پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے مزار پر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں پاکستان کے قومی جھنڈے اور امن کے پیغام کے بینر اٹھا رکھے تھے، ایمبولینس سے لوگوں کو اس ریلی میں شریک ہونے کی اپیلیں ہوتی رہیں مگر کسی بھی شہری نے اس میں شرکت نہیں کی اور سڑک پر کھڑے ہوکر اس کا نظارہ کرتے رہے۔
سڑکیں پر سوئے ہوئے فقیر جو ابھی نیند سے ہی اٹھے تھے آگے آکر مولانا ایدھی سے ملتے اور ان کے ہاتھ چومتے رہے۔ مولانا ایدھی کا کہنا تھا کہ حکومت دنیا سے ڈالر مانگ رہی اس کے بجائے راشن مانگا جائے کیونکہ قوم بھوک مر رہی ہے، اس صورتحال میں میں نسلی فسادات اس بھوک میں مزید اضافہ کر رہے ہیں ۔ لوگوں کی عدم شرکت پر مولانا عبدالستار ایدھی کا کہنا تھا کہ لوگ ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں اس لیئے ریلی میں شامل نہیں ہو رہے ہیں۔، انسانی حقوق، مزدوروں کی تنظیموں اور کچھ سیاسی جماعتوں نے شرکت کے لیے کہا تھا مگر انہوں نے معذرت کی کہ وہ اکیلے یہ ریلی نکالیں گے وہ اپنے اپنے طریقوں سے امن کا پیغام دیں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ چار دنوں سے جاری ان فسادات میں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد بتیس ہوچکی ہے۔ | اسی بارے میں کراچی، مرنے والوں کی تعداد بتیس02 December, 2008 | پاکستان کراچی، ٹرانسپورٹ کم لوگ پریشان02 December, 2008 | پاکستان کراچی، غریب، معصوم نشانے پر02 December, 2008 | پاکستان کراچی تشدد جاری، ہلاکتیں چوبیس01 December, 2008 | پاکستان جرگہ نظام جلد ختم ہو جائیگا: مرزا19 November, 2008 | پاکستان جامعہ کراچی میں چار ہلاک26 August, 2008 | پاکستان کراچی دھماکے: دو ہلاک، کئی زخمی07 July, 2008 | پاکستان اپریل میں 11 ارکان کا قتل:فاروق ستار20 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||