کراچی، غریب، معصوم نشانے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رضیہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی تھیں کہ اچانک فائرنگ کی آواز سے بھگدڑ مچ گئی اور لوگ جان بچانے کے لیئے کھلا دروازہ دیکھ کر ان کے گھر میں گھسنے گلے۔ دھکا لگنے سے وہ گرکر بے ہوش ہوگئیں۔ شہر کے گنجان آبادی والے علاقے اورنگی کی رہائشی رضیہ حاملہ ہیں اور طبعیت بگڑنے کے بعد انہیں بڑی مشکل سے ایم اے جناح روڈ پر واقع ایک نجی ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ کراچی میں سنیچر کو ہنگامہ آرائی کی ابتدا شہر کے مرکز میں پشتون آبادی والے علاقے بنارس سے ہوئی جس نے شہر کے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ابن سینا لین میں رہنے والی رخسانہ اکثر شام کو عزیز و اقارب سے ملنے جاتی ہیں۔ سنیچر کو جب ہنگامہ آرائی شروع ہوئی اس وقت بھی وہ گھر سے باہر تھیں۔ جلدی سے گھر کا رخ کیا لیکن گھر سے صرف ایک گلی دور تھیں کہ انہوں نے اپنے سامنے مسلح افراد کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا ۔ دوڑتی ہوئی گھر پہنچیں اور دروازے سے ٹکراکر بے ہوش ہوگئیں۔ اس گھر میں گزشتہ بدھ کو شادی کی تقریب تھی اور والدہ کے بے ہوش ہونے پر افراتفری پھیل گئی۔
دو سالہ عائشہ سر میں گولی لگنے سے زخمی ہوگئی ہے۔ گولی کہاں سے آئی اور کس نے چلائی اور کیوں چلائی ان تینوں سوالوں سے معصوم عائشہ لاعلم ہے۔ ان کے والد رحمت اللہ کا کہنا ہے کہ بچی گھر میں کھیل رہی تھی کہ معلوم نہیں کہاں سے گولی آئی اور اس کے سر میں لگ گئی۔ اسے مقامی ہسپتال لے گئے جہاں سے اسے سول ہسپتال بھیج دیا گیا۔ رحمت اللہ کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں تین روز سے صبح شام فائرنگ جاری ہے۔ پولیس اور رینجرز کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ لوگوں کے گھر نذر آتش کردیئے گئے ہیں، کچھ لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔
اختر حسین پاپوش نگر کے رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رات کو وہ ساتھیوں کے ساتھ سوئے ہوئے تھے کہ چار پانچ لوگوں نے گھیرے میں لے لیا اور گولیاں چلا کر زخمی کردیا۔ اختر حسین سڑک کی کھدائی کا کام کرتے ہیں اس فائرنگ میں دو افراد ہلاک اور ان سمیت چار زخمی ہوگئے ہیں۔ کراچی میں ان کا کوئی جاننے والا نہیں پڑوسی نے ہسپتال پہنچایا ہے۔ ڈرائیور قدر من اچانک پھوٹ پڑنے والے ہنگاموں سے لاعلم تھے اور اپنے گھر جارہے تھے کہ راستے میں بیس تیس لوگوں نے انہیں روک لیا۔ پتھر مارکر ان کی گاڑی کے شیشے توڑ دیئے اور گاڑی میں پڑا ہوا مختلف نوعیت کا سامان لوٹ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں لوگوں نے پکڑ لیا اور ایک لڑکے نے کہا کہ چھری لیکر آؤ، اس کو کاٹتے ہیں۔ جس کے بعد انہوں نے مزاحمت کی اور گاڑی کی طرف دوڑ لگائی جس دوران فائرنگ کرکے انہیں زخمی کردیا گیا۔ سعید الرحمان کورنگی سعید اسٹاپ پر مونگ پھلی بیچتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ دو روز قبل رات کو چھ سات بندے آئے اور انہوں نے فائرنگ کی جس میں وہ زخمی ہوگئے۔ پولیس اور رینجرز موجود تھے مگر انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ اورنگی میں نور محمد اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نامعلوم سمت سے آنے والی گولی کا نشانہ بن گئے۔ ان کے ساتھی سعید خان نے بتایا کہ وہ اورنگی کے علاقے میں کھڑے ہوئے تھے کہ اچانک سر میں گولی لگی اور وہ زمین پر گر گئے۔ یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ گولی کہاں سے آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کوئی مدد کے لیئے نہیں آرہا تھا۔ ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال لا رہے تھے کہ نور محمد فوت ہوگئے۔ نور محمد ڈرائیور تھے اور کچھ ماہ قبل ان کی شادی ہوئی تھی، ان کے بھائی انور کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ سات سالوں سے کراچی میں رہتے ہیں اور اصل کوہاٹ کے رہائشی ہیں۔ اس ہنگامہ آرائی میں ہلاک ہونے والے اکثر لوگ غریب اور مزدور پیشہ افراد ہیں ۔ سول ہسپتال میں زیر علاج دو سالہ عائشہ کے بھائی محمد اکرم کا کہنا ہے کہ ان فسادات میں نقصان غریب لوگوں کا ہی ہو رہا ہے، جو روز مزدوری کرتے ہیں وہ پریشان ہیں۔ عام لوگوں کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں بس ایک کہتا ہے کہ یہ میرا علاقہ ہے دوسرا کہتا ہے کہ میرا علاقہ ہے۔ | اسی بارے میں کراچی تشدد جاری، ہلاکتیں چوبیس01 December, 2008 | پاکستان کراچی: مزید چھ افراد ہلاک30 November, 2008 | پاکستان جامعہ کراچی میں چار ہلاک26 August, 2008 | پاکستان کراچی دھماکے: دو ہلاک، کئی زخمی07 July, 2008 | پاکستان اپریل میں 11 ارکان کا قتل:فاروق ستار20 April, 2008 | پاکستان سیاسی جماعتوں کا رد عمل10 April, 2008 | پاکستان خفیہ اہلکاروں کا قتل، تفتیش شروع28 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||