BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 December, 2008, 11:03 GMT 16:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی تشدد جاری، ہلاکتیں چوبیس

کراچی
کراچی کے غربی زون کے ڈی آئی جی علیم جعفری کو برطرف کرکے سردار عبدالمجید نئے ڈی آئی جی غربی مقرر

کراچی کے بعض علاقوں میں سنیچر سے شروع ہونے والے پُرتشدد واقعات پیر کے روز بھی جاری ہیں جبکہ ہنگامہ آرائی کے دوران مزید تین افراد کی ہلاکت کے بعد ان واقعات میں مجموعی طور پر مرنے والوں کی تعداد چوبیس ہوچکی ہے۔

محکمۂ داخلہ کے ترجمان کے مطابق سنیچر سے اب تک کی پرتشدد کارروائیوں میں 24 افراد ہلاک اور 113 زخمی ہوئے ہیں جبکہ پولیس نے 141 شرپسند افراد کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے سولہ پستول برآمد کیے ہیں۔

ترجمان کے مطابق بعض علاقوں میں ہنگامہ آرائی کے دوران بتیس گاڑیوں، اٹھارہ دکانوں، تین ریستوران اور چار جھگیوں کو نذرِ آتش بھی کیا گیا ہے۔

ہنگامہ آرائی پر قابو پانے میں ناکامی پر صوبائی حکومت نے شہر کے شدید متاثرہ حصے غربی زون کے ڈی آئی جی کو برطرف کر دیا ہے۔

کشیدگی کے باعث شہر میں پیر کو بھی ٹرانسپورٹ پوری طرح بحال نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے خاص طور پر صبح کے وقت بس سٹاپوں پر لوگوں کا رش تھا جب کہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم رہا۔

حکومت سندھ نے پیر کو تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے تعلیمی ادارے بھی بند رہے جبکہ سرکاری اور نجی دفاتر اور صنعتوں میں حاضری معمول سے کم رہی۔

بسوں اور منی بسوں کے مالکان کی تنظیم کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے سربراہ ارشاد بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت صرف پچیس فیصد ٹرانسپورٹ سڑکوں پر چل رہی ہے۔ ان کے بقول ہنگاموں کے دوران اب تک بیس سے زائد بسوں اور منی بسوں کو نذرِ آتش کردیا گیا ہے اور بس مالکان خوف کا شکار ہیں اس لیے وہ اپنی گاڑیاں نہیں نکال رہے ہیں۔

 اس وقت صرف پچیس فیصد ٹرانسپورٹ سڑکوں پر چل رہی ہے۔ ہنگاموں کے دوران اب تک بیس سے زائد بسوں اور منی بسوں کو نذرِ آتش کردیا گیا ہے اور بس مالکان خوف کا شکار ہیں اس لیے وہ اپنی گاڑیاں نہیں نکال رہے ہیں۔
ارشاد بخاری

انہوں نے کہا کہ ہنگاموں میں جلنے والی بسوں کے نقصان کے ازالے کے سلسلے میں اب تک حکومت نے رابطہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی بسوں کو سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں کون اپنی گاڑیوں کو نکالے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا ’حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے موجودہ صورتحال پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور لگتا ہے کہ جیسے یہ سب ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔‘

پیر کو صوبائی وزارت داخلہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مسلح شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا اختیار دینے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے سنیچر کو سکیورٹی فورسز کو یہ اختیار دینے کا اعلان کیا تھا۔

محکمہ داخلہ کے ترجمان کے مطابق ہنگامہ آرائی میں شہر کا شدید متاثرہ حصہ پولیس کا غربی زون ہے اور وہاں حالات پر قابو پانے میں ناکامی پر علاقے کے ڈی آئی جی علیم جعفری کو برطرف کر کے سردار عبدالمجید کو نیا ڈی آئی جی غربی مقرر کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اتوار کی رات صوبائی حکومت نے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر تین روز کے لیے پابندی عائد کردی تھی جبکہ تمام تعلیمی ادارے پیر کو بند رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

 بنارس کالونی اور اس سے ملحقہ علاقے اورنگی ٹاؤن میں اب بھی گڑبڑ ہے اور تین دنوں کی ہنگامہ آرائی کے دوران مرنے والوں کی تعداد اکیس تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان واقعات میں پچاسی افراد زخمی ہوئے ہیں
وسیم احمد

ہنگامہ آرائی سنیچر کی شام بنارس کالونی اور اس سے ملحقہ علاقے اورنگی ٹاؤن سے شروع ہوئی تھی جس کے بعد کئی دیگر علاقے بھی اس کی لپیٹ میں آگئے تھے۔ متاثرہ علاقوں میں پیرآباد، نیوکراچی، سعیدآباد، ناظم آباد، لسبیلہ اور سہراب گوٹھ کے علاقے شامل ہیں۔

کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد کے مطابق بنارس کالونی اور اس سے ملحقہ علاقے اورنگی ٹاؤن میں اب بھی گڑبڑ ہے اور تین دنوں کی ہنگامہ آرائی کے دوران مرنے والوں کی تعداد اکیس تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان واقعات میں پچاسی افراد زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں امن و امان کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

ہنگامہ آرائی کے دوران مرنے والوں کی لاشوں کو سول، جناح، قطر، اور عباسی شہید ہسپتال پہنچایا گیا ہے جہاں کے حکام کے مطابق مرنےوالوں کی تعداد اکیس ہے۔

شہر کے ایک حصے میں ہنگامہ آرائی کا اثر اب بھی پورے شہر پر نظر آ رہا ہے اور شہر میں خوف و ہراس کا عالم برقرار ہے۔

اسی بارے میں
جامعہ کراچی میں چار ہلاک
26 August, 2008 | پاکستان
سیاسی جماعتوں کا رد عمل
10 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد