BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 December, 2008, 14:09 GMT 19:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی، مرنے والوں کی تعداد بتیس

کراچی
کراچی کے غربی زون کے ڈی آئی جی علیم جعفری کو برطرف کرکے سردار عبدالمجید نئے ڈی آئی جی غربی مقرر
کراچی کے بعض علاقوں میں پرتشدد کارروائیوں اور وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ منگل کو چوتھے روز بھی جاری ہے جبکہ چار دنوں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد بتیس ہوچکی ہے۔

منگل کو دوسرے روز بھی سندھ حکومت کے اعلان کے بعد شہر کے نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ بہت کم تعداد میں سڑکوں پر ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو سفر کرنے میں پریشانی کا سامنا ہے۔

محکۂ داخلہ نے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر تین روز کے لیے پابندی عائد کردی تھی جس پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔ ڈبل سواری کی پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر ایک سو سے زیادہ شہریوں کو پولیس نے گرفتار کرکے ان کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی ہے۔

کراچی میں سنیچر کی شام شروع ہونے والی ہنگامہ آرائی آج بھی بعض علاقوں میں جاری ہے جن میں شدید متاثرہ علاقے اورنگی ٹاؤن اور اس سے ملحقہ بنارس کالونی ہیں، جہاں رات بھر اور منگل کو دن میں بھی فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

محکمۂ داخلہ کے ترجمان کے مطابق رات بھر اور دن کے دوران مختلف واقعات میں مزید آٹھ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور اس طرح چار دنوں سے جاری ہنگامہ آرائی میں اب تک بتیس افراد ہلاک جبکہ ایک سو تیرہ زخمی ہوئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک سو بیالیس شرپسند عناصر کو گرفتار کیا ہے جن کے قبضے سے سولہ پستول برآمد ہوئے ہیں۔

ہنگامہ آرائی کی وجہ سے شدید متاثرہ حصے یعنی پولیس کے غربی زون میں سردار عبدالمجید کو نیا ڈی آئی جی مقرر کیا گیا ہے جنہوں نے اپنا چارج سبنھال لیا ہے۔ سردار عبدالمجید نے دعوٰی کیا ہے کہ اورنگی ٹاؤن اور بنارس کالونی سمیت تمام متاثرہ علاقوں میں صورتحال اب قابو میں ہے۔

محکمۂ داخلہ کے ترجمان کے مطابق صوبائی وزیرِ داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کراچی میں ٹاؤن کی سطح پر امن کمیٹیاں بنانے کے احکامات جاری کیے ہیں جس میں متحدہ قومی مومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پپلزپارٹی کے نمائندے اور علاقے کے معززین شامل ہوں گے اور وہ اپنے اپنے علاقوں میں امن برقرار رکھنے کے لئے مؤثر کاوشیں کریں گے۔

یاد رہے کہ شہر میں امن قائم رکھنے کے لئے سنیچر کے روز ایک چھ رکنی مشترکہ کمیٹی قائم کی گئی تھی جس میں پیپلزپارٹی، اے این پی اور ایم کیو ایم کے دو دو ارکان شامل ہیں۔

اسی بارے میں
کراچی، غریب، معصوم نشانے پر
02 December, 2008 | پاکستان
جامعہ کراچی میں چار ہلاک
26 August, 2008 | پاکستان
سیاسی جماعتوں کا رد عمل
10 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد