BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 December, 2008, 16:24 GMT 21:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی، ٹرانسپورٹ کم لوگ پریشان

کراچی میں موجودہ حالات کی وجہ سے ٹریفک کی کمی نے شہریوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے
کراچی کے بعض علاقوں میں سنیچر کی شام شروع ہونے والے فسادات کے بعد منگل کو حالات قدرے معمول پر آگئے ہیں۔

تاہم شہر میں ٹرانسپورٹ بحال نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے جبکہ موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی ہونے کی وجہ سے بھی ان کی پریشانی مزید بڑھ گئی ہے۔

ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ آبادی والے اس شہر کے بیشتر شہریوں کے لئے اپنے اپنے روزگار پر جانے کا واحد ذریعہ روڈ ٹرانسپورٹ ہی ہے۔ لیکن پچھلے چار دنوں سے شہر کے بعض حصوں میں فسادات کے باعث احتیاطاً جہاں تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں وہاں لوگوں کی اکثریت بھی گھروں تک محدود ہے اور جو لوگ اپنے کام کاج پر جانا بھی چاہتے ہیں تو ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہونے کے نتیجے میں انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

حکومت سندھ نے اتوار کو شہر میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر تین روز کے لئے پابندی عائد کردی تھی جس میں منگل کو مزید تین دنوں کی توسیع کردی گئی ہے۔

کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے سیکریٹری جنرل سید محمود آفریدی کا کہنا ہے کہ فسادات میں ٹرانسپورٹرز کا پہلے ہی بہت نقصان ہوچکا ہے اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی بحالی اسی صورت ممکن ہے جب حالات معمول پر آئیں۔

’ کراچی میں ہماری کُل گاڑیاں سولہ ہزار ہیں جن میں بسیں، منی بسیں اور کوچیں شامل ہیں۔ اِس وقت میرے خیال میں دس فیصد گاڑیاں بھی شہر میں نہیں ہیں۔ تین دنوں میں ہماری کم از کم پچپن گاڑیاں جلادی گئی ہیں۔ اس حالت میں گاڑیاں چلانا ہمارے لئے مشکل ہوجاتا ہے اِسی وجہ سے ہم لوگوں نے گاڑیاں رکوائی ہیں۔‘

کراچی میں گزشتہ کئی دنوں سے حالات کشیدہ ہیں

انہوں نے شکوہ کیا کہ ٹرانسپورٹرز کے نقصان کے باوجود سرکاری حکام نے ان کی تنظیم سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔

’یہ تو حکومت کا کام ہے کہ ہمیں سیکیورٹی دیں مگر بدقسمتی سے حکومت کے کسی نمائندے نے ہم سے اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کی ہے۔‘

لوگوں کی یہ بھی شکایت ہے کہ زیادہ تر پیٹرول پمپس بھی بند پڑے ہیں جس سے انہیں پیٹرول، ڈیزل اور سی این جی کے حصول میں بھی مشکل پیش آرہی ہے۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالسمیع خان کہتے ہیں کہ اسکی ایک سے زیادہ وجوہات ہیں۔

’ کراچی میں تقریباً ساڑھے تین سو پمپس ہیں اور تقریباً چالیس کے قریب تو ان حالات کی وجہ سے بند ہیں اور باقی دو سو کھلے ہیں اور سو کے قریب ایسے ہوں گے جو تیل خرید کر بیچ ہی نہیں رہے ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے پمپس مالکان کے لئے منافع کا تناسب نہ ہونے کے برابر کردیا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ چار پانچ مہینے پہلے تک پمپس مالکان کا منافع دو روپے دس پیسے فی لیٹر مقرر تھا جو پہلے 80 پیسے کیا گیا اور یکم دسمبر کو مزید کم کرکے ساٹھ پیسے کردیا گیا ہے جسکی وجہ سے پمپس مالکان کو نقصان ہورہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر ان کی تنظیم کی وفاقی حکومت سے بات چیت جاری ہے۔

کراچی کے پولیس سربراہ وسیم احمد کا کہنا ہے کہ منگل کو شہر میں کہیں ہنگامہ آرائی نہیں ہوئی نہ ہی کوئی گولی چلی۔ انہیں امید ہے کہ بدھ تک فسادات سے متاثرہ علاقوں میں بھی حالات معمول پر آجائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ بنارس، اورنگی ٹاؤن اور قصبہ سمیت فسادات سے متاثرہ علاقوں کے مستقل باشندوں نے پیر کو سفید جھنڈے ہاتھوں میں لیکر امن ریلی بھی نکالی اور اس بات کا عزم کیا کہ وہ پہلے کی طرح مل جل کر امن و محبت کے ساتھ رہیں گے۔

واضح رہے کہ پچھلے چار روز کی بدامنی کا عید قرباں کی خریداری پر بھی منفی اثر پڑا ہے اور شہر کے باہر لگنے والی جانوروں کی منڈی میں ملک کے دوسرے حصوں سے جانور فروخت کرنے کے لئے لانے والے کئی لوگ حالات کی خرابی کی وجہ سے محفوظ علاقوں میں چلے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
کراچی، غریب، معصوم نشانے پر
02 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد