ایم کیو ایم ترمیمی بل ایوان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی موومنٹ نے صدر کے اختیارات میں کمی، مرکز سے صوبوں کو اختیارت کی منتقلی اور وفاقی شرعی عدالت ختم کرنے سمیت مختلف تجاویز پر مبنی آئینی ترامیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے جو مزید کارروائی کے لیے وزارت قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔ ایوان میں منگل کو نجی کارروائی کا دن ہوتا ہے اور ایم کیو ایم نے اپنا بل بطور ’نجی بل‘ ایوان میں پیش کیا، جس کی حکومت نے مخالفت نہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے ایک سرکردہ رہنما فاروق ستار نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بل میں صدر کے اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم کرنے کی شق شامل نہیں ہے کیونکہ ان کے بقول ان کا یہ مسودہ ایک سال پرانا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ صدر پرویز مشرف کی سترہویں ترمیم کی غیرجمہوری شقوں کے خاتمے کی حمایت کا اعلان کیا۔ جب ان سے پوچھا کہ انہوں نے پھر سترہویں ترمیم منظور کیوں کروائی تھی تو انہوں نے کہا کہ اس وقت کے حالات کچھ اور تھے اور اب کا موسم کچھ اور ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ ان کے بل میں’ کنکرنٹ لسٹ‘ ختم کرنے اور مرکز سے زیادہ سے زیادہ اختیارات صوبوں کو منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دفاع، کرنسی، خارجہ اور مواصلات کے شعبے مرکز کے پاس ہوں اور باقی شعبے صوبوں کے حوالے کیے جائیں۔ ایم کیو ایم کے رہنما کی باتیں اپنی جگہ لیکن چار محکموں کے علاوہ باقی تمام محکمے صوبوں کے حوالے کرنے کے بارے میں ان کے تجویز کردہ آئینی ترمیمی بل میں بظاہر کوئی شق شامل نہیں ہے۔ ایم کیو ایم نے آئین کی ایک ایسی شق میں بھی ترمیم تجویز کی ہے جو آئین میں نہیں ہے۔ یہ ترمیم شق 209 کی ذیلی شق ایک کی کلاز سی کے بارے میں ہے۔ آئین کی شق دو سو نو کی ذیلی شق ایک کی کلاز سی موجود ہی نہیں ہے۔ ایم کیو ایم کے مجوزہ آئینی ترمیمی بل میں ساٹھ شقوں میں ترامیم اور تنسیخ کے علاوہ چوتھے شیڈول پر وسیع پیمانے پر نظر ثانی کی تجویز بھی شامل ہے۔ چوتھے شیڈول کی جو متبادل سفارشات پیش کی گئی ہیں ان میں دوران جنگ فوج کے مختلف اداروں پر کنٹرول کو کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ آئین کی شق ایک سو باون میں تبدیلی کرتے ہوئے تجویز کیا گیا ہے کہ کسی بھی مقصد کے لیے وفاق کی جانب سے کسی صوبے میں زمین کے حصول کے لیے متعلقہ صوبائی اور سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی رضا مندی حاصل کرنا لازم ہے۔ ایم کیو ایم کے بل میں وفاقی شرعی عدالت ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ اس طرح کسی معاملے کی سماعت ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو کرنی چاہیے جس کے کم از کم دو جج مسلمان ہونے چاہیئیں۔ بل میں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس اور ججوں کی تقرری، ترقی، تبادلے اور برطرفی کا اختیار صدر سے متعلقہ صوبے کے گورنر کو منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں بھی صدر کے صوابدیدی اختیارات ختم کرکے اس کی تقرری میں صدر پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم نے چیف الیکشن کمشنر کی مدت ملازمت میں قرارداد کے ذریعے ایک سال کی توسیع کا اختیار قومی اسمبلی کی بجائے ایوان بالا یعنی سینیٹ کو دینے کی تجویز دی ہے۔ ایم کیو ایم نے ملک میں ایمرجنسی یا کسی صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کے صدر کے اختیارات میں تبدیلی کی تجویز بھی دی ہے۔ ان کی مجوزہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ ملک میں وزیراعظم کی سربراہی میں ایمرجنسی کونسل تشکیل دی جائے اور اس کی منظوری کے بعد صدر ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرے۔ واضح رہے کہ حکمران پیپلز پارٹی، حزب مخالف کی مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) نے بھی علیحدہ علیحدہ آئینی ترامیم کے بل تیار کیے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ تمام بلوں کا جائزہ لے کر فریقین کو اعتماد میں لیتے ہوئے ایک متفقہ آئینی ترمیم کا بل لائے گی۔ منگل کو قومی اسمبلی میں نجی کارروائی کے دن بچوں کی خوراک اور میک اپ کے معیاری سامان کی فراہمی اور خصوصی شہریوں کو تمام سرکاری ٹرانسپورٹ میں رعایتی سفری سہولیات فراہم کرنے کے بارے میں یاسمین رحمٰن نے دو بل بھی پیش کیے، جو قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کو بھیج دیے گئے۔ منگل کو مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کی وجہ سے ان کا کوئی رکن اجلاس میں شریک نہیں ہوسکا۔ | اسی بارے میں پی پی، ایم کیو ایم کا اتفاق رائے26 January, 2009 | پاکستان چار مزید وزراء، تریسٹھ کی کابینہ26 January, 2009 | پاکستان آئینی ترامیم: مسودہ پی پی پی کے سپرد15 January, 2009 | پاکستان آئینی ترمیم: ’کمیٹی تشکیل ہو گی‘13 January, 2009 | پاکستان متحدہ کی طرف سے بھی پیکج12 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||