گورنر راج، اسمبلی کے باہر ’اجلاس‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب میں حکومت کی برطرفی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد مسلم لیگ نون ملک میں یوم احتجاج منا رہی ہے اور مسلم لیگی ایم پی اے حضرات نے ایوان کی بلڈنگ کی سیڑھیوں پر اپنے طور پر اسمبلی کا ’اجلاس‘ منعقد کیا جس میں صدر مملکت اورگورنر پنجاب کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔ مسلم لیگ نون کے اراکین کو اسمبلی کی عمارت میں داخلے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ ایوان کے مرکزی دروازے پر تالہ لگا تھا جبکہ پوری اسمبلی کے ارد گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور جگہ جگہ خاردار تاروں اور کنکریٹ کی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے سپیکر رانا اقبال نے کہا کہ اجلاس کل رات ہی طلب کر لیا تھا اور رات کی کارروائی کے بعد اسے آج صبح تک ملتوی کیا گیا تھا، لیکن جب مسلم لیگی اراکین اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے تو پولیس نے انہیں روک لیا۔ اس دوران پولیس اہلکاروں اور اراکین کے درمیان ہاتھاپائی ہوئی، اور بقول ان کے پولیس اہلکاروں نے خواتین اراکین اسمبلی سے بدسلوکی کی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال نے میڈیا کو بتایا کہ بیس کے قریب اراکین کو حراست میں لیکر پولیس کی گاڑی میں ڈالا گیا لیکن پھر انہیں چھوڑ دیاگیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ انہیں بھی اسمبلی کی عمارت میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ پنجاب اسمبلی کے مسلم لیگی اراکین نے اسمبلی کی سیڑھیوں پر اجلاس شروع کیا جو کئی گھنٹے جاری رہا۔ اجلاس میں صدر آصف زرداری اور گورنر پنجاب اور عدلیہ کے خلاف سخت جملے کہے گئے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک گورنر پنجاب نوٹیفیکیشن جاری نہ کریں اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو سکتا اور گورنر پنجاب نے ابھی اجلاس شروع کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا ہے۔
تاہم اب تک کی اطاعات کے مطابق سوبہ سندھ میں احتجاجی کال کا زیادہ اثر نہیں دکھائی دیا ہے۔ پنجاب میں گورنر ہاؤس کے سامنے گزشتہ روز جو پیپلز پارٹی کے جھنڈے بینر اور ہورڈنگ توڑ دیئے گئے تھے وہ دوبارہ لگا دیئے گئے ہیں۔ لاہور کی مال روڈ کے ایک حصہ کو پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر کے عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔ پولیس کے نئے انسپکٹر جنرل خواجہ خالد فاروق نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج کرنا سب کا حق ہے لیکن کسی کو توڑ پھوڑ اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسے افراد سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ رائے ونڈ کے شریف فارم ہاؤس میں نوازشریف اور شہباز شریف اپنی جماعت کے قائدین سے صلاح و مشورے کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ کی طرف سے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو نا اہل قرار دیئے جانے کے بعد صدر پاکستان نے صوبے میں دو ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ بدھ کی شام کو ایوان صدر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا گیا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والے فیصلے میں شریف برادران کی اہلیت کے بارے میں تمام درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ میاں نواز شریف کے تجویز کنندہ مہر ظفر اقبال اور تائید کنندہ شکیل بیگ کو ججوں کو مقدمے کی سماعت سے علیحدہ ہونے اور لارجر بینچ کی تشکیل کے حوالے سے متفرق درخواست دائر کرنے پر ایک ایک لاکھ روپے جُرمانے کی سزا سنائی ہے۔ پندرہ یوم تک جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں تین تین ماہ کی قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر نے آئین کی شق دو سو چونتیس کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے گورنر راج نافذ کیا ہے۔ رائے ونڈ میں نواز لیگ کے ہنگامی اجلاس کے بعد پارٹی کے قائد نواز شریف نے ایک پریس کانفرنس میں ججوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’یہ عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک فرمان ہے جو سب کو معلوم ہے کہ کہاں سے آیا ہے۔‘
بدھ کی صبح سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے شہباز شریف کو نا اہل قرار دیتے ہوئے ان کے بطور رکنِ اسمبلی نوٹیفکشن منسوخ کر دیا جس کے بعد گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے صوبے کا انتظام سنبھال لیا۔ عدالت نے میاں شہباز شریف کو اس بنا پر نا اہل قرار دیا ہے کہ وہ عدالت کی طرف سے مجرم قرار دیئے جا چکے ہیں۔ میاں شہباز شریف خود عدالت میں پیش نہیں ہوئے ہیں لیکن ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے ان کے دفاع میں دلائل دیئے تھے۔ | اسی بارے میں پنجاب میں گورنرراج نافذ25 February, 2009 | پاکستان نااہلی کےبعد ہنگامی اجلاس طلب25 February, 2009 | پاکستان عوامی حلقے حیران ، کارکنوں کا احتجاج 25 February, 2009 | پاکستان آئین کے تحت تیسری بار وزیرِ اعلٰی نہیں25 February, 2009 | پاکستان نواز شریف اور شہباز شریف نااہل25 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||