BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 February, 2009, 10:40 GMT 15:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایسا کب نہیں ہوا!

نواز شریف اور شہباز شریف کی ایک فائل فوٹو
پاکستان کا ایسا کون سا صوبہ ہے جو بیلٹ بکس کے نتائج کے برعکس اس طرح کی اکھاڑ پچھاڑ سے بچ سکا ہو۔

سوال یہ ہے کہ شریف برادران کی نااہلی ہو یا پنجاب میں گورنر راج۔ایسی کون سی نئی یا انہونی بات ہوگئی جو پہلے نہ ہوئی ہو۔

پاکستان کا ایسا کون سا صوبہ ہے جو بیلٹ بکس کے نتائج کے برعکس اس طرح کی اکھاڑ پچھاڑ سے بچ سکا ہو۔

یہ کام تو پاکستان کے قیام کے دوسرے دن سے ہی شروع ہے۔ جب صوبہ سرحد میں وزیرِ اعلی ڈاکٹر خان صاحب کی اکثریتی حکومت کو برطرف کرکے گورنر راج لگایا گیا اور مسلم لیگ کے خان عبدالقیوم خان نے مرکزی حکومت کے ایما پر جوڑ توڑ کرکے سردار عبدالرشید کی اقلیتی حکومت بنوا دی۔

الزام یہ لگایا گیا کہ ڈاکٹر خان صاحب نے پاکستان کے جھنڈے کو سلامی دینے اور نئی ریاست سے حلفِ وفاداری اٹھانے سے انکار کردیا۔

حالانکہ دونوں الزامات تاریخی طور پر غلط ثابت ہوئے۔اور پھر یہی خان صاحب اتنے بڑے حب الوطن قرار پائے کہ انیس سو چون میں ون یونٹ بننے کے بعد مغربی پاکستان کے پہلے وزیرِ اعلی بنے۔

پاکستان بننے کے آٹھ ماہ بعد دوسرا وار سندھ میں ایوب کھوڑو کی حکومت پر ہوا۔جب انہوں نے گورنر غلام حسین ہدایت اللہ کی جانب سے بلا مشورہ دو وزیروں کے تقرر پر اعتراض کیا ۔جس کے بعد مرکزی حکومت نے کھوڑو حکومت پر کرپشن اور اقربا پروری کا الزام لگا کر انہیں برطرف کردیا۔اور چند برس بعد انہی ایوب کھوڑو کو دوبارہ وزیرِ اعلی بنا دیا گیا۔

تیسرا وار بانی پاکستان کی وفات کے چار ماہ بعد پنجاب میں میاں افتخار ممدوٹ کی حکومت پر ہوا جب مرکزی حکومت نے میاں ممتاز دولتانہ کے اقتدار کی راہ ہموار کرنے کے لئے نااہلی کا الزام لگا کر صوبے میں گورنر راج لگا دیا۔

چوتھا وار مئی انیس سو چون میں مشرقی پاکستان میں جگتو فرنٹ کی اکثریتی فضل الحق حکومت پر ہوا۔

الزام یہ لگایا گیا کہ انہوں نے کلکتہ کے دورے میں یہ کہا تھا کہ بنگال کے دونوں حصوں کے درمیان سرحدیں مصنوعی ہیں۔لیکن الزام لگانے والے یہ بھول گئے کہ یہ وہی فضل الحق تھے جنہوں نے تئیس مارچ انیس سو چالیس کو لاہور میں قرار دادِ پاکستان پیش کی تھی۔

فضل الحق حکومت کی برطرفی کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کا احساسِ تنہائی اور بڑھ گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اصل میں فضل الحق مرکزی حکومت کی جانب سے پاکستان کو امریکی اتحاد سیٹو اور سینٹو کا حصہ بنانے کے مخالف تھے۔

 پاکستان بننے کے آٹھ ماہ بعد دوسرا وار سندھ میں ایوب کھوڑو کی حکومت پر ہوا۔جب انہوں نے گورنر غلام حسین ہدایت اللہ کی جانب سے بلا مشورہ دو وزیروں کے تقرر پر اعتراض کیا ۔جس کے بعد مرکزی حکومت نے کھوڑو حکومت پر کرپشن اور اقربا پروری کا الزام لگا کر انہیں برطرف کردیا۔اور چند برس بعد انہی ایوب کھوڑو کو دوبارہ وزیرِ اعلی بنا دیا گیا۔

جب انیس سو انہتر میں یحیی خان نے ون یونٹ ختم کیا تو بلوچستان کا صوبہ باضابطہ طور پر وجود میں آیا۔اور بلوچستان کو پہلی منتخب حکومت اپریل انیس سو بہتر میں ملی جب نیشنل عوامی پارٹی کے غوث بخش بزنجو گورنر اور سردار عطا اللہ مینگل وزیرِ اعلی بنے۔

لیکن یہ حکومت دو برس بھی نہ چل سکی۔ فروری انیس سو چوہتر میں بھٹو حکومت نے عراقی سفارتخانے سے ساڑھے تین سو مشین گنیں اور ایک لاکھ راؤنڈ برآمد کئے اور انکشاف کیا کہ یہ اسلحہ بلوچستان کو علیحدہ کرنے کے لئے سمگل کیا گیا ہے۔ اسکے ایک روز بعد بلوچستان حکومت کو برطرف کردیا گیا۔اسکے ردِ عمل میں صوبہ سرحد میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کی مفتی محمود حکومت نے بھی احتجاجاً استعفی دے دیا۔ بعد میں یہ کھلا کہ عراقی سفارتخانے سے برآمد ہونے والا اسلحہ ایران عراق علاقائی چپقلش کے نتیجے میں دراصل ایرانی بلوچستان کے لئے تھا۔ جبکہ شاہ ایران کو خدشہ تھا کہ بلوچستان میں قوم پرست حکومت ایرانی بلوچستان میں علیحدگی پسندی کو ہوا دے سکتی ہے۔

چنانچہ بلوچستان کی پہلی حکومت شاہ ایران کی خوشنودی کی بھینٹ چڑھ گئی۔اسکے نتیجے میں صوبے میں عام بغاوت ہوگئی جو پانچ برس تک جاری رہی۔اسی بلوچستان میں انیس سو اٹھاسی میں بے نظیر بھٹو نے برسرااقتدار آتے ہی میر ظفراللہ جمالی کی صوبائی حکومت کو نامعلوم وجوہات کے سبب برطرف کردیا ۔تاہم بلوچستان ہائی کورٹ نے اسے فوری طور پر بحال کردیا۔

جبکہ نوے کے عشرے میں پنجاب میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے مابین چوہے بلی کا کھیل جاری رہا۔اور مسلم لیگ جونیجو کے میاں منظور وٹو اور پھر سردار عارف نکئی پیپلز پارٹی کی مدد سے اپنی اقلیتی حکومت چلاتے رہے۔

ثابت یہ ہوا کہ قومی مفاہمت ، فروغِ جمہوریت اور آمریت کا راستہ روکنے کی باتیں اسوقت تک اچھی لگتی ہیں جب تک کوئی جماعت حزبِ اختلاف میں رہتی ہے۔ کرسی ملتے ہی یہ دوڑ شروع ہوجاتی ہے کہ کون کسے کتنی جلدی نیچا دکھا کر زیادہ سے زیادہ اختیارات سمیٹ سکتا ہے۔ کبھی اس کے لئے اسمبلی کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو کبھی عدالتی راستہ تو کبھی محض ایک صدارتی آرڈیننس ہی کافی ہوتا ہے۔

نواز شریفشریف نااہلیت
مدعی اور مدع الیہان دونوں ’غیر متعلق‘
نواز شریفافغان مصالحتی عمل
نواز شریف کے کردار پر چہ مگوئیاں
حکومت پنجاب لوگافسران کی فہرستیں
پنجاب میں سابقہ دور کے افسران کی فہرستیں تیار
شریف اور نیا چیلنج
پہلے فرقہ واریت تھی اب خود کش حملے ہیں
اسی بارے میں
’جوڑ توڑ کی ماہر شخصیت‘
25 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد