تیس ہزار بندوقیں عوام کے ہاتھوں میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سرحد حکومت نے شدت پسندي کے مسئلے سے نمٹنے اور انسداد دہشت گردي کےلئے عوام کو مسلح کرنے کا فيصلہ کيا ہے اس سلسلے ميں وزيراعلٰٰي نے پہلے مرحلے ميں تیس ہزار بندوقيں تقسيم کرنے کي منظوري ديدي ہے۔ وزیراعلی سرحد امیر حیدر ہوتی کے مطابق دہشت گردي اورشدت پسندي کے مسئلے سے نمٹنے کےلئے جاري کوششوں ميں عوام کي شموليت کا فيصلہ کيا گیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس مقصد کےلئےعوام ميں تیس ہزار بندوقيں تقسيم کي جائيں گي۔جس کی سرحد حکومت نے باقاعدہ منظوري ديتے ھوئے اسلحہ کي تقسيم کے طريقہ کار ميں احتياط برتنے کي ہدايت کي ہے۔ حکومتي فيصلے کے تحت متعلقہ تھاندار کي سفارش پر’ڈي سي او‘ اسلحہ کے اجراء کي منظوري دے گا۔ سياسي تجزيہ کاروں نے حکومت کے اس فيصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے خانہ جنگي کا پيشہ خيمہ قرارديا ہے۔ صوبہ سرحد میں سابقہ سکیورٹی افیسر (ر) بریگیڈائیر محمود شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک غلط قدم ہے اس سے ایک تو حکومت کی کمزوری نظر آتی ہے تو دوسری طرف اس بات کا اعتراف ہے کہ حکومت کی جو مشینری ہے جس میں پولیس ایف سی اور فوج شامل ہیں شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بہت سارے منفی پہلو ہیں۔ ایک تو معاشرے میں بدامنی پر قابو پانا مشکل ہوجائےگا اور خانہ جنگی کی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرحد میں ایک سیاسی حکومت ہے اور ممکن ہے کہ بندوقیں حکومتی جماعت کے ہی کارکنوں میں تقیسم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بندوقیں تقسیم کرنے کی بجائے حکومت کو چاہیے کہ وہ پولیس اور دوسرے سکیورٹی کے اداروں کو مضبوط بنائیں۔ دوسري جانب سرکاري حکام کا موقف ہے کہ عوام ميں اسلحہ کي تقسيم کوئي نيا تجربہ نہيں بلکہ ماضي ميں بھي اس کي روايت ملتي ہے۔ سرکاري اسلحہ اچھي شہرت کے حامل ايسے افراد کوفراہم کيا جائے گاجن کا جرائم سے کوئي تعلق نہ ہو۔ ادھرسياسي تجزيہ کاروں کا موقف ہے حکومت کي اس کوشش سے امن وامان کي صورتحال ميں مزيد ابتري کا خطرہ ہے۔ مستقبل ميں يہي مسلح افراد حکومت اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کےلئے مسائل کا سبب بن سکتے ہيں۔ انہوں نے وفاقي حکومت کو بھي تجويز دي ہے کہ وہ اس معاملے ميں مداخلت کرکے صوبائي حکومت کو اس فيصلے پرعملدرآمد سے روکے۔ |
اسی بارے میں سوات: غیر معینہ مدت تک سیزفائر24 February, 2009 | پاکستان سوات: لوگوں کی خوشی کی انتہا نہیں22 February, 2009 | پاکستان سوات:قوم کی پشت پناہی درکار 21 February, 2009 | پاکستان سوات معاہدے پر امریکہ کو پریشانی20 February, 2009 | پاکستان فوری فیصلہ مگر فوری انصاف نہیں18 February, 2009 | پاکستان نظام عدل، ’دستخط پانچ منٹ کا کام‘17 February, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||