’زرداری سودے بازی چاہتے تھے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف نے عدالتی نااہلی کے لیے پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین اور صدر مملکت آصف زرداری کو ذمہ دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صدر آصف زرداری نے نااہلی کیس ختم کرانے کے لیے ان سے سودے بازی کی کوشش کی تھی۔ یہ بات انہوں نے اپنی رہائش گاہ رائے ونڈ فارم ہاؤس میں طویل مشاورتی اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر ان کے ہمراہ ان کے بھائی اور پنجاب کے سبکدوش ہوجانے والے وزیر اعلیٰ شہباز شریف بھی موجود تھے۔ نواز شریف نے کہا کہ انہیں ایک جال پھیلا کر اور ایک سازش کے تحت نااہل کیا گیا ہے اور پی سی او عدلیہ نے آصف زرداری کو چین سے واپس آنے پر نااہلی کا تحفہ ان کی گود میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے لیے ان سے دو ذریعوں سے سودے بازی کی گئی ایک تو چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے پیغام بھجوایا کہ ان کی مخالفت بند کردی جائے تو نااہلی کا کیس حق میں ہوسکتا ہے دوسری بار صدر مملکت آصف زرداری نے وزیراعلی شہباز کو ایوان صدر کھانے کی میزپر کہا کہ چلو بزنس ڈیل کرتے ہیں۔ نوازشریف کے بقول آصف زرداری نے نااہلی کیس ختم کرنے کی پیشکش کی اور جواباً کہا کہ وہ عبدالحمید ڈوگر کے بطور چیف جسٹس مدت ملازمت میں توسیع کے لیے ساتھ دیں جو نواز شریف کے بقول انہوں نے مسترد کردی۔ نواز شریف نے کہا کہ ان کے بھائی شہباز شریف نے اس ملاقات کا احوال انہیں سنا دیا تھا۔ پریس کانفرنس میں موجود شہبازشریف نے اس بات کی تصدیق کی۔ پریس کانفرنس کےدوران شہباز شریف تھکے ہوئے نظر آرہے تھے جبکہ ان کےبڑے بھائی نواز شریف نہ صرف ترو تازہ بلکہ پرجوش نظر آئے۔ شہباز شریف نے بتایا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے فون پر نااہلی کے فیصلے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ نواز شریف نے صدر آصف زرداری کی مبینہ وعدہ خلافیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ خود انہوں نے تو ہاتھ ملانے کی کوشش کی لیکن جواباان کی پیٹھ میں خنجر مارا گیا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ انہیں دکھ اس بات کا ہے کہ وہ تمام وعدہ خلافیوں کے باوجود پیپلز پارٹی سے تعاون کرتے چلے آئےاور کوشش کی معاملہ ’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘ پر نہ چلا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے پنجاب کے آٹھ کروڑ عوام کے مینڈینٹ کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے لیے وہ پیپلز پارٹی کو نہیں بلکہ آصف زرداری کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اعلی عدلیہ کے ججوں کے بارے میں سخت ریمارکس دیئے اور کہا کہ ان کی نااہلی کی فیصلہ اب نام نہاد سپریم کورٹ سے نکل کر سولہ کروڑ عوام کی عدالت میں آچکا ہے۔ان کے بقول پاکستان کے عوام سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔انہوں صدر مملکت آصف زرداری کو چیلنج کیا کہ اگر انہیں اس بات کا یقین نہیں ہے تو وہ ملک میں ریفرنڈم کروالیں کہ عوام اس فیصلے کےبارے میں کیارائےرکھتی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے عوام سے اپیل کی کہ اب وہ ملک میں قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے اٹھ کھڑی ہو۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو اب اٹھنا ہوگا ورنہ پاکستان ہاتھ سے نکل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج نہیں تو کل یہ فیصلہ واپس ہوجائے گا کچھ ہی دیر کی بات ہے یہ کالعدم ہوگا اور سب دیکھ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسی عدلیہ نے ایک جنرل کے وردی میں الیکشن لڑنے کے حق میں ایک دن میں فیصلہ دیدیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے مقابلے میں شہباز شریف دو بار وزیراعلی رہ چکے ہیں وہ خود یعنی نواز شریف دوبار وزیر اعظم دو بار وزیراعلی پھر اپوزیشن لیڈر رہے لیکن انہیں نااہل قرار دیدیا گیا۔ انہوں نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کو بھی تنقید کانشانہ بنایا اور کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کو اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ انہوں نے آصف زرادری کے سوئس عدالت میں کیس کس ضابطے اور قانون کے تحت ختم کیے؟ انہوں نے کہا کہ اگر کیس ختم بھی ہوئے تو وہ لوٹی ہوئے کئی ملین ڈالر کی رقم پاکستان کو واپس کیوں نہیں ملی۔نواز شریف نے کہا کہ این آر اوآتے رہے تو پاکستان میں جمہوریت کبھی پروان نہیں چڑھ سکے گی۔ اس موقع پر نواز شریف نے ایک شعر بھی پڑھا: ہیں نئی روش کی عدالتیں اور نرالے ہی ڈھب کے ہیں فیصلے شہبازشریف نے کہا کہ پنجاب حکومت پر کسی کو شب خون نہیں مارنے دیا جائے گا اور جلد اسمبلی کا اجلاس بلا کر مسلم لیگ نون کا نیا وزیراعلی چن لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہو ں نے جمہوریت کی بحالی کے جو سہانے خواب دیکھے تھے وہ چکنا چور ہوگئے۔ | اسی بارے میں پی ایم ایل این کی تنظیم نو منظور22 February, 2009 | پاکستان شریف نااہلیت اور ’گھوسٹ پٹیشنر‘25 February, 2009 | پاکستان ’فیصلہ آ بیل مجھے مار کے مترادف‘25 February, 2009 | پاکستان نااہلی کےبعد ہنگامی اجلاس طلب25 February, 2009 | پاکستان عوامی حلقے حیران ، کارکنوں کا احتجاج 25 February, 2009 | پاکستان نواز شریف اور شہباز شریف نااہل25 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||